اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عدالتوں پر تنقید آسان مگر شواہد دینا اصل چیلنج ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قوانین موجود ہیں۔ اور معاشرے میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ قانون سازی ہمیشہ احتیاط کے ساتھ ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نظام انصاف کو مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اور سی آر پی سی سیکشن 345 کے تحت قتل میں صلح ممکن ہے۔ فساد فی الارض کا تصور قانون میں شامل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: تمام ادارے متحرک رہیں، کوتاہی برداشت نہیں ہو گی، وزیر اعلیٰ پنجاب
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صلح کے باوجود عدالت تعزیری سزا سنا سکتی ہے۔ اور عدالتوں پر تنقید آسان مگر شواہد دینا اصل چیلنج ہے۔ انصاف کے لیے شہادتیں اور جرح بنیادی تقاضے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست انصاف کے لیے بنیادی ذمہ دار ہے۔ جبکہ جذباتی اور ذہنی تشدد بھی جرم ہے۔ گھریلو تشدد کے کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوئے۔ اور بعض جگہ قانون کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے۔
