ملک کے ایک اعلیٰ آئینی ادارے میں ایک سینئر خاتون افسر کو مبینہ طور پر ان کے افسر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف ہم انویسٹی گیشن ٹیم کی کئی ہفتوں پر مشتمل تحقیقات کے بعد سامنے آیا، جو متعدد ذرائع سے تصدیق شدہ ہے۔
چین سے مزید 100بسیں پاکستان کےلیے روانہ
ذرائع کے مطابق، گریڈ 21 کی ایک خاتون افسر نے پاکستان کی خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کو خط لکھ کر گریڈ 22 کے ایک افسر کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے بارہا انہیں ہراساں کیا اور سیکرٹریٹ میں ان کی زندگی “اجیرن” بنا دی۔
اپنے مراسلے میں خاتون افسر نے لکھا:
“میرے لیے یہ انتہائی حیران کن تھا کہ سیکرٹری نے فائل میرے سامنے پھینک دی، جو کرسی کے پیچھے جا گری۔ اس کے بعد انہوں نے بے جا طور پر مجھ پر الزام لگایا کہ میں ملزم ڈائریکٹر جنرل کے مؤقف کا ساتھ دے رہی ہوں،یہ رویہ میرے جونیئرز کے سامنے نہایت توہین آمیز اور خوفزدہ کرنے والا تھا۔ میں نے کوئی بدتمیزی یا جواباً ردعمل نہیں دیا اور خاموشی سے کمرے سے نکل گئی۔ بعد ازاں، ایڈیشنل سیکرٹری نے مجھے اپنے دفتر بلا کر بتایا کہ سیکرٹری کا خیال ہے کہ اس’’بے عزتی‘‘ کے بعد مجھے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
خاتون افسر نے مزید لکھا کہ ابتدا میں انہوں نے یہ سوچ کر معاملہ نظرانداز کرنے کی کوشش کی کہ شاید سیکرٹری کا موڈ خراب تھا یا وہ دباؤ میں تھے، مگر کئی ہفتے گزرنے کے باوجود معافی نہ ملی۔ “اس کے برعکس،” انہوں نے لکھا، “مجھے اطلاع ملی کہ وہ میرے جونیئرز کے سامنے فخر کے لہجے میں اس واقعے کا ذکر کر رہے تھے۔”
سپریم کورٹ ،بحریہ ٹاؤن پراپرٹی نیلامی کیس کی سماعت کیلئے بینچ تبدیل
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے تین ہفتے بعد سیکرٹری نے انہیں اپنے دفتر بلا کر کہا کہ انہوں نے کبھی اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کیا، لیکن خاتون افسر نے انہیں “غصہ دلا کر ایسا کرنے پر مجبور کیا۔”
“مزید تضحیک آمیز بات یہ ہے کہ مجھ سے معمولی اور غیر متعلقہ معاملات پر متعدد وضاحتیں طلب کی جا رہی ہیں، تاکہ مجھے سیکرٹریٹ کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔ تازہ وضاحت (جس کی کاپی منسلک ہے)میں خود سیکرٹری کے دستخط سے اس واقعے کا اعتراف موجود ہے، اگرچہ میں ان کے مؤقف سے متفق نہیں ہوں،” خاتون افسر نے لکھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکرٹری کے رویے میں اختلافِ رائے برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، اور اگر یہ معاملہ ہراسگی کے محتسب کے پاس لے جایا گیا تو ادارے کی بدنامی ہوگی۔ انہوں نے خاتونِ اول سے اپیل کی کہ اس رویے کے خلاف کارروائی کی جائے، بصورت دیگر یہ جونیئر خواتین افسران کے لیے خطرناک مثال قائم کرے گا۔
دریائے ہنزہ پھر بپھر گیا ،50سے زائد مزدور بال بال بچ گئے
ہم انویسٹی گیشن ٹیم کو ایک نوٹ بھی موصول ہوا، جو مبینہ طور پر سیکرٹری نے لکھا تھا، جس میں کہا گیا:
“آپ کے غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے، میں اپنی سروس میں پہلی اور آخری بار ایک خاتون افسر سے بلند آواز میں بات کرنے پر مجبور ہوا۔ یہ ایک معمولی بات تھی مگر آپ نے اسے اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا کہ مجھے آپ کے کمرے آنا پڑا، میں نے فائل ٹی وی پر پھینکی۔ بعد میں، میں نے محترمہ کے سامنے تین بار معذرت کی اور کہا کہ میں آپ کو بڑی بہن سمجھتا ہوں، صرف ذرا سی آواز بلند کرنے پر، کیونکہ یہ میری سروس میں کبھی نہیں ہوا۔”
حضرت داتا گنج بخش عرس، لاہور میں 15 اگست کو عام تعطیل کا اعلان
ہم انویسٹی گیشن ٹیم نے اس معاملے پر سیکرٹری، مبینہ طور پر ہراسانی کی مرتکب افسر، اور ایوانِ صدر کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا، تاہم نہ تو انہوں نے جواب دیا اور نہ ہی اس بات کی تردید کی کہ یہ واقعہ ملک کے ایک اہم آئینی ادارے میں پیش آیا تھا۔
