امریکی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد کینیڈا میں 40 ہزار سے زائد نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
خبر ایجسنی کی رپورٹ کے مطابق معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ کینیڈا میں بے روزگاری سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر ہوں گے۔
تجزیہ کار توقع کر رہے تھے کہ معیشت میں 13,500 نوکریوں کا اضافہ ہوگا اور بے روزگاری کی شرح سات فیصد تک بڑھ جائے گی، جبکہ بی ایم او کے چیف اکنامسٹ ڈگلس پورٹر نے کہا کہ حتمی اعداد و شمار تیسرے سہ ماہی کے کمزور آغاز کو ظاہر کرتے ہیں۔
پاک افغان سرحد پردراندازی کی کوشش ناکام ،بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کے 33دہشتگرد ہلاک
پورٹر نے ایک نوٹ میں لکھا کہ یہ بلاشبہ ایک کمزور رپورٹ ہے۔ اگرچہ یہ ایک بلاشبہ مضبوط رپورٹ کے فوراً بعد آئی ہے۔ دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو مجموعی تصویر ایک نرم معیشت کی ہے جو کچھ اضافی صلاحیت کے ساتھ چل رہی ہے، جو تجارتی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر حیران کن نہیں ہے۔
یہ کمی زیادہ تر نوجوانوں (عمر 15 سے 24 سال) میں ملازمتوں کے خاتمے کی وجہ سے ہوئی، یہ وہ طبقہ ہے جو موجودہ معاشی حالات میں روزگار تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
ان کی روزگار کی شرح 53.6 فیصد تک گر گئی، جو نومبر 1998 کے بعد سے (وباء کے علاوہ) سب سے کم ہے۔
