وفاقی محتسب کی ٹیم نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق شکا یات کا جائزہ لینے کے لئے بی آئی ایس پی کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا۔
ہیڈ آفس میں موجود خواتین نے محتسب کی ٹیم کو بتایا کہ مستحق خواتین کو بار بار چکر لگوائے جاتے اور امداد دینے سے قبل رشو ت طلب کی جاتی ہے اور نااہلی کی صورت میں خواتین کو واضح جواب دینے کی بجائے شناختی کارڈ پر انمٹ سیاہی سے چند ماہ بعد کی تا ریخ ڈال کر ان کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
وفاقی محتسب نے اسلام آباد کے نرم اسپتال کیخلاف شکایات کا نوٹس لے لیا
ٹیم کی طرف سے رپورٹ پیش کرنے کے بعد وفاقی محتسب اعجاز قریشی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ امدادی رقم مستحق خواتین کے بینک اکاؤنٹ میں بھیجی جائے، رشوت طلب کرنے والے اہلکاروں کیخلا ف انکوائری کرکے وفاقی محتسب کو رپورٹ ارسال کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ امدادی رقم کلئے نااہل قرار دی جانے والی غر یب خوا تین کو بار بار دفتروں کے چکر لگوا نے کے بجا ئے امداد نہ دینے کی وجوہات کے ساتھ واضح تحریری جواب دیا جا ئے اور کسی کے شنا ختی کارڈ پر انمٹ سیاہی کیساتھ تاریخ وغیرہ تحریر نہ کی جا ئے۔
سرکاری افسران عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنائیں،وفاقی محتسب
وفاقی محتسب کی ٹیم نے بی آئی ایس پی کے سہو لیا تی مرکز G-7 کا بھی دورہ کیا جہاں سروے اور امداد کے لئے دور دراز سے آنیوالی خواتین اپنی باری کی منتظر تھیں۔ ٹیم نے انتظا میہ کو ہدایت کی کہ ان کی فوری شنوائی کے لئے ضروری انتظا مات کئے جائیں۔
سینئر ایڈوائزر احمد فاروق کی سربراہی میں دورہ کرنے والی ٹیم میں محتسب کے رجسٹرار محمد ثاقب ، کنسلٹنٹ خا لد سیال، ڈپٹی رجسٹرار سمیع اللہ اور اے ایل او اعجاز حسین ڈار شامل تھے۔
قبل ازیں وفا قی محتسب کی ٹیم کو بی آئی ایس پی کے مختلف پراجیکٹس کے بارے میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ادارہ اس وقت ایک کروڑ سے زائد مستحق خوا تین کو امداد دے رہا ہے۔
