بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کو درپیش قانونی مشکلات کے درمیان ’ مکالمے اور باوقار حل’ کی اپیل کر دی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں بند کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ چند ماہ میں حکومتی اداروں کے دباؤ اور مختلف کارروائیوں کی وجہ سے بحریہ ٹاؤن کا آپریشن شدید متاثر ہو چکا ہے۔ درجنوں اسٹاف ارکان کی گرفتار اور کمپنی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کئے گئے ہیں۔
درخواستیں مسترد ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کو بحریہ ٹائون کی جائیدادیں نیلام کرنیکی اجازت دیدی
ملک ریاض نے کہا کہ ہمارا کیش فلو مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، روزمرہ کی سروسز فراہم کرنا ناممکن ہو چکا ہے، ہم اپنے ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہیں، اور صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہمیں ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ کیفیت وطنِ عزیز کی معیشت کے لیے بھی کسی شدید بحران سے کم نہیں، کراچی سے لاہور اور اسلام آباد تک بحریہ ٹاؤن میں لاکھوں پاکستانیوں کی کھربوں روپے کی سرمایہ کاری منجمد ہو چکی۔
بحریہ ٹائون منی لانڈرنگ کیس ، 2 ریٹائرڈ فوجی افسران سمیت 10 افراد گرفتار ، تحقیقاتی ٹیم تشکیل
انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سنجیدہ مکالمے اور باوقار حل کی طرف واپس جانے کا موقع دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے کسی بھی ثالثی (arbitration) میں شریک ہونے اور اس کے فیصلے پر 100 فیصد عملدرآمد کا یقین دلاتے ہیں۔ اگر ثالثی کے فیصلے میں ہمیں رقم کی ادائیگی کا پابند کیا گیا، تو انشاء اللہ ہم اسے ادا کریں گے۔
