اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آئندہ مانیٹری پالیسی کے اعلان سے قبل یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) کے پیٹرن ان چیف ایس ایم تنویر نے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی اور بحالی کے لیے سنگل ڈیجٹ (یک عددی) شرح سود ناگزیر ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ وہ جرأت مندانہ فیصلے کرے اور شرح سود کو فوری طور پر کم کر کے 6 فیصد تک لائے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح پہلے ہی 4 فیصد تک گر چکی ہے جبکہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) 0.3 فیصد پر ہے، ایسے میں موجودہ 11 فیصد شرح سود غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔ شرح سود میں مؤثر کمی سے صنعتی سرگرمیاں بحال ہوں گی، برآمدات میں مسابقت بڑھے گی اور حکومت کے 3.5 کھرب روپے بچ سکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا اجلاس 16 جون کو طلب
انہوں نے کہا کہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے جارحانہ پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے، اور کاروباری طبقہ مرکزی بینک کے فیصلے کا شدت سے منتظر ہے۔
تنویر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا اجلاس بدھ، 30 جولائی کو ہونے جا رہا ہے۔ اگرچہ ماہرین ایک سے ڈیڑھ فیصد کمی کی پیش گوئی کر رہے ہیں، تنویر کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو اس سے آگے جا کر شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانا چاہیے۔
دوسری جانب، یونائیٹڈ بزنس گروپ نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے 2024-25 کے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی UBG اراکین کی اجتماعی محنت اور کاروباری برادری کی طرف سے ایس ایم تنویر کی قیادت پر اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
