لاہور: پولیس آرڈر ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (CCD) کو سنگین اور حساس جرائم کی تفتیش کے باقاعدہ اختیارات دے دیے گئے ہیں۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق اغوا، ڈکیتی، تیزاب پھینکنے، گاڑی چھیننے اور دوران ڈکیتی قتل و زیادتی جیسے واقعات کی تفتیش اب سی سی ڈی کرے گا۔
کراچی: مچھر کالونی میں پولیس کا سرچ آپریشن، منشیات فروش گرفتار
اس کے علاوہ بینک ڈکیتی، سرکاری ملازمین پرحملے اوردہشت گردی سے جڑے جرائم کی تفتیش بھی کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے دائرہ اختیارمیں شامل کی گئی ہے۔
ترمیمی قانون میں یہ بھی درج ہے کہ پنجاب پولیس کا سربراہ کسی مخصوص کیس کی تفتیش بھی سی سی ڈی کے سپرد کرسکتا ہے۔
نئے پولیس آرڈرترمیمی ایکٹ کا مقصد تفتیشی عمل کوموثر، منظم اورتیز بنانا ہے تاکہ سنگین جرائم پرجلد قابو پایا جا سکے۔
