ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں بھارت کے پاکستان کیخلاف میچ کھیلنے سے انکار پر قومی ٹیم کے سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی کا ردعمل سامنے آ گیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ کرکٹ کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے، بھارتی ٹیم کو نہیں کھیلنا تھا تو پہلے ہی بتا دیتے۔انہوں نے کہا کہ اسپورٹس ڈپلومیسی سے بہترین کوئی چیز نہیں ہے، جب تک ساتھ نہیں بیٹھیں گے، بات نہیں کریں گے تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔
آسٹریلیا نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دے دی
سابق کپتان نے کہا کہ پہلا میچ جیتنے کے بعد بہت پرجوش تھے، امید تھی دوسرا میچ بھی ہوتا اور سترہ اٹھارہ ہزار شائقین میچ کو انجوئے کرتے، فینز کے حوالے سے مجھے کافی مایوسی ہوئی ہے، اگر پاک بھارت میچ دوبارہ آ جاتا ہے تو صورتحال دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا کی ٹیم بھی مایوسی کا شکار ہوئی ہے، صرف ایک لڑکے کی وجہ سے یہ میچ نہیں ہوسکا، انڈیا کی ٹیم یہاں میچ کھیلنے آئی ہوئی تھی، ملک کا اچھا سفیر بننا چاہیے شرمندگی کا باعث نہیں بننا چاہیے۔
پہلا ٹی 20، بنگلہ دیش نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی
انہوں نے کہا کہ انڈین کمیونٹی بہت اچھی ہے اور پڑھی لکھی ہے، پہلے بھی حالات کرکٹ سے ہی بہتر ہوئے تھے، ہم کرکٹ کھیلنے آئے تھے سوچا تھا کہ ایک دوسرے سے ملاقات ہو اور گپ شپ لگے۔
ایک آدھا انڈہ خراب ہوتا ہے جس کی وجہ سے سب خراب ہو جاتے ہیں، مجھے پتہ ہوتا کہ میچ میری وجہ سے رکا ہے تو میں گراونڈ میں ہی نہ جاتا، کھیل پہلے ہے شاہد آفریدی بعد میں ہے۔
