کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں فلیٹ سے مردہ حالت میں ملنے والی اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس میں پولیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔
پولیس نے اداکارہ حمیرا اصغر کے زیر استعمال الیکٹرانک گیجٹس جن میں تین موبائل فونز، ایک ٹیبلٹ اور ایک لیپ ٹاپ شامل ہیں۔ کو کھول کر ان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ شروع کر دیا۔
ان تمام ڈیوائسز کے پاسورڈز اداکارہ کی ذاتی ڈائری میں تحریر تھے۔ جن کی مدد سے گیجٹس کو کھولا گیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ کیس سے متعلق 2 افراد کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ مزید 2 افراد کو تفتیش کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق اداکارہ جِم جاتی تھیں اور بیوٹیشن سے بھی ان کا باقاعدہ رابطہ تھا۔
پولیس نے کہا ہے کہ تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے اداکارہ کے جِم ٹرینر سمیت دیگر متعلقہ افراد سے بھی معاونت لی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ماڈل حمیرا اصغر کی موت 8 ماہ قبل ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ
مزید برآں پولیس اداکارہ کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ جبکہ ان کے چند قریبی روابط کی نوعیت جانچنے کے لیے رابطہ ریکارڈ کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز حمیرا اصغر کی میت کو کراچی سے لاہور منتقل کر کے سپرد خاک کردیا گیا ہے۔
