مشیر وزیراعظم راناثنااللہ کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کی تبدیلی کے حوالے سے خبر کی تردید غیر ضروری تھی،اس خبر کو صرف افواہ ہی کہنا کافی تھا۔
ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس خبر کے پیچھے کوئی غیرملکی ایجنسی یا بیرونی عناصر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پیپلزپارٹی پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے، پیپلزپارٹی کی کوئی خواہش نہیں ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کاحصہ بنے۔ جب کابینہ میں اضافہ کیا گیا تب تک چانسز تھے کہ پیپلزپارٹی حصہ بنے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک بات تو کلیئر ہے کہ ان اتحادیوں اور اسی نظام نے ہی چلنا ہے۔جو نظام قائم ہوا ہے اس پر پیپلزپارٹی اور حکومت دونوں قائم ہیں۔ جب تک چلنا ہے اسی نظام نے چلنا ہے،اگر فرق پڑے گا تو پورا سسٹم متاثر ہوگا۔
تحریک انصاف اپنے غلط فیصلوں کا شکار ہوگئی، راناثنااللہ
راناثنااللہ نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کے بیٹے صرف والد سے ملنے آ رہے ہیں تو انہیں حق ہے۔ اگر وہ کسی تحریک کاحصہ بننے یا سیاست کرتے ہیں تو یہ بھی ان کاحق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کوئی بھی سیاست کرے یا پھر تحریک چلائے پھر اس کےنتائج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔پاکستان کی سیاست میں گرفتار ہونا لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کے بیٹے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتے تو وہ محفوظ رہیں گے۔ موروثی سیاست کی مخالفت ہم نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کیا کرتے تھے
