اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ فیملی کیسز میں معاوضوں کی ادائیگی کی اپیلیں سپریم کورٹ میں نہیں آنی چاہئیں۔
چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے مختلف فیملی کیسز کی سماعت کی۔ جس میں بچوں کے ماہانہ خرچے، جہیز کی واپسی اور دیگر معاملات زیر غور آئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک چھوٹے بچے کے لیے 25 ہزار روپے ماہانہ خرچہ بہت زیادہ ہے۔
جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیئے کہ اپنا بچہ ہے تو 25 ہزار روپے کچھ زیادہ نہیں۔
سپریم کورٹ نے ذیلی عدالت کی جانب سے مقرر کردہ 25 ہزار روپے ماہانہ خرچے کے فیصلے کے خلاف اپیل کو مسترد کر دیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فیملی کیسز میں معاوضوں کی ادائیگی سے متعلق اپیلیں سپریم کورٹ میں نہیں آنی چاہئیں۔ نچلی عدالتیں جو فیصلہ کرتی ہیں وہیں معاملہ ختم ہو جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ ان معمولی مالیاتی تنازعات میں مداخلت نہیں کرے گی۔
دوسری جانب عدالت نے 7 سال پرانے جہیز برآمدگی کیس میں شہری شاہ رخ لودھی کی اپیل بھی مسترد کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے جو ضروری ہو گا وہ کریں گے، محسن نقوی
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔
عدالت نے رجسٹرار آفس کو ہدایت دی کہ ٹرائل کورٹ کی عملدرآمد رپورٹ فوری طور پر سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے۔ اور متعلقہ عدالت کو بھی حکم دیا کہ وہ فیصلے پر بلا تاخیر عملدرآمد یقینی بنائے۔
