اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں امدادی سامان کی تقسیم کے مراکز کے قریب فلسطینی شہریوں پر جان بوجھ کر فائرنگ کرنے کے الزامات پر ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق غزہ میں امدادی مراکز پر منتظر فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی جانب سے جان بوجھ کر فائرنگ کی جاتی ہے، امدادی مراکز کے قریب فائرنگ سے شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات کا نوٹس لیا گیا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری، مزید 47 فلسطینی شہید، جنوبی لبنان بھی نشانے پر
غزہ پٹی میں طبی حکام کے مطابق امدادی مراکز میں اس نوعیت کے واقعات میں اب تک 500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی فوج کے اہلکاروں اور افسران نے انکشاف کیا کہ غزہ میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران امدادی مراکز کے قریب فلسطینی شہریوں پر جان بوجھ کر فائرنگ کی جاتی رہی حالانکہ وہ واضح طور پر کسی خطرے کا باعث نہیں تھے۔
اسرائیل کی جارحیت جاری، غزہ میں امداد کے منتظر 80 فلسطینی شہید، 400 زخمی
اسرائیلی فوجیوں کا کہنا ہے کہ کمانڈروں نے انہیں حکم دیا کہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ان پر براہ راست فائرنگ کی جائے، چاہے وہ امداد لینے کے لیے ہی کیوں نہ آئے ہوں۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن نے مئی کے آخر میں کام شروع کیا، ان میں سے چار مراکز فعال ہیں جن میں 3 جنوبی غزہ اور ایک وسطی غزہ میں موجود ہے۔
