چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ میڈیا نے پاک بھارت جنگ کے دوران بھرپور کردار ادا کیا،بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کو تاریخی فتح ملی،بھارت کو سفارتی محاذ پر بھی شکست ہوئی۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بیانیے کی جنگ میں بھی بھارت کو شکست دی،بھارت کو سوشل میڈیا محاذ پر بھی شکست ہوئی،5دن کی جنگ میں پاکستانی میڈیا نے اپنی ساکھ بنائی، پاکستانی میڈیا کا شکریہ ادا کرتاہوں۔
یکم جولائی کو ملک بھر میں بینک بند رکھنے کا اعلان
بھارتی میڈیا کا جھوٹ اور پراپیگنڈا ہر سطح پر بے نقاب ہوا،پاکستان نے بھارت کے 6جہاز گرائے مگر بھارت نے تسلیم نہیں کیا،ہمیں اپنی زبان پر قائم رہنا چاہیے،پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان نے اپنی ساکھ برقرار رکھی،دنیا نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیاہے وہ بھی ہماری کامیابی ہے۔
وزیراعظم نے فون کیا اور کہا کہ پرامن پاکستان کا دنیا کے سامنے کیس لڑیں،بھارت کا مؤقف ہمیشہ یہی رہاہے کہ ان کا پانی بند کرناہے،خطے میں امن صرف پاکستان نہیں بلکہ بھارت کے عوام کے بھی مفاد میں ہے۔
بھارت نے پاکستان کی جانب سے رافیل گرائے جانے کی خبر کو ماننے میں بھی ایک ماہ لگایا،پیسے اور وسائل سے کریڈبیلٹی خریدی نہیں جاسکتی حقائق کو رپورٹ نہ کرنے سے بھارت کو نقصان ہوا،پاک بھارت جنگ کے بعد کشمیر ایک عالمی ایشو بن چکاہے۔
فوج سیاسی جماعتوں سے بات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی،ڈی جی آئی ایس پی آر
امریکی صدر نے بھی کہاکہ ہم کشمیر کا مسئلہ حل کرائیں گے،ہم امن کے ایڈووکیٹ ہیں ، آنے والی نسلوں پر جنگیں مسلط نہیں کرنا چاہتے،ہم نے کشمیری عوام کی آزادی کیلئے راستے بنائے ہیں ۔
آج کشمیر ایک عالمی مسئلے کے طور پر مانا جا رہا ہے،آج دنیا کہہ رہی ہے کہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے ،بھارت بھی یہ کہنے پر مجبور ہے یہ اندرونی نہیں بین الاقوامی مسئلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہواہے،پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں،بطور وزیرخارجہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلوایا۔
بھارت کہتاہے کہ پاکستان کا پانی بند کریں گے،اگر بھارت نہ رویہ بہ بدلا تو پھر ہم جنگ کریں گے،کوشش ہےکہ بھارت سندھ طاس معاہدے پر اتفاق کرے،اگر پانی کے لیے جنگ لڑنا پڑی تو جنگ کریں گے اور اپنا حق لیں گے۔
عالمی برادری سے کہتے ہیں بھارت کے ساتھ پانی کا معاملہ حل کرانے کیلئےآواز اٹھائیں،مودی پہلے گجرات کا قصائی تھا اور اب کشمیر کا قصائی بن چکاہے،بھارت کو اگر مستقبل میں مزید سپرپاور بنناہے تو چھوٹی چھوٹی سوچ کو ختم کرناہوگا۔
سونے کی فی تولہ قیمت میں 5 ہزار روپے کی کمی
پاکستان دہشتگردی کیخلاف لڑتارہےگا اور امن کا پیغام گھر گھر تک پہنچائےگا،بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ہم6 کے6دریاؤں کے پانی حاصل کرینگے ،سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے فیصلے پر بھارت قائم نہیں رہ سکتا،ہم سندھو اور کشمیر کے معاملے پر بات کرتے رہیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوجی جنرل نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کی جنگ میں ایک بہترین پارٹنر ہے ،امریکی فوجی نمائندے کا یہ بیان بھارت کی سفارتی محاذ پر بڑی ناکامی ہے۔
اس جنگ کے لیے تین محاذوں پر محاذ کھولا گیا ،فوج نے سرحدوں کا دفاع کیا ،ہم نے سفارتی محاذ سنبھالا ،میڈیا نے اہم کردار ادا کیا،سفارتی محاذ پرپہلے5دن ہمارے سفیروں نے جس طرح تحقیقات کی بات کی قابل تعریف ہے۔
ہم نے وزیراعظم کی ہدایت پر سفارتی محاذ سنبھالا اور وزیراعظم نے ہمیں اس کی ذمہ داری سونپی تھی،صحافی کا ہتھیار قلم ہے تو سفیروں کا ہتھیار زبان ہے،بھارت امریکا کے پاس جانے کی تردید کرتا ہے تو ٹرمپ کو چاہیے دنیا کو حقائق بتائیں۔
تحریک انصاف اپنے غلط فیصلوں کا شکار ہوگئی، راناثنااللہ
بھارت نے پہلے جنگ بندی کروائی اور بعد میں کہنا شروع کردیا کہ یہ وقفہ ہے،مودی نے ایسا ماحول بنایا کوئی بھی واقعہ بھارت میں ہو تو الزام لگائیں اور جنگ شروع ہوجائے،جنگ بندی کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہ ہوئی تو کسی بھی وقت جنگ ہوسکتی ہے۔
عالمی دنیا کو ماننا پڑا کہ ہم دہشتگردی کیخلاف اہم کردار ادا کررہے ہیں،عالمی دنیا کو ماننا پڑا کہ ہم دہشتگردی پھیلانے والے نہیں،امریکی دورے کے دوران کسی ملک نے نہیں کہا کہ ہمارا مؤقف غلط ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا صدر ٹرمپ کے ساتھ کھانا ایک بڑا اعزاز ہے۔
