قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا۔
اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں فنانس بل کی شق وار منظوری دی گئی، قبل ازیں وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا جس میں کابینہ نے ترامیم کے ساتھ فنانس بل کی منظوری دی۔
آئی سی سی نے کرکٹ میں نئے قوانین متعارف کرا دیے
سیلز ٹیکس 1990 میں ترامیم ایوان میں کثرت رائے سے منظور کرلی گئیں،ٹیکس فراڈ میں ملوث تاجروں کی گرفتاری کے اختیارات کمیٹی کو دینے کی ترمیم منظور کی گئی ۔
کمیٹی 5کروڑ سے زائد کے ٹیکس فراڈ میں ملوث تاجر کی گرفتاری کے اجازت دینے کی مجاز ہوگی،تحقیقات کے مرحلے میں ایف بی آر کے پاس گرفتاری کا اختیار نہیں ہو گا،اپوزیشن کی جانب سے سیلز ٹیکس ایکٹ میں متعارف کردہ تمام ترامیم مسترد کردی گئیں۔
فنانس بل 2025 کی شق 4 میں وفاقی حکومت کی ترامیم پر ایوان میں رائے شماری کرائی گئی،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کسٹمز ایکٹ 1969 میں مختلف ترامیم پیش کی تھیں۔
خواتین کی معاشی شراکت پاکستان کی ترقی کے لیے اہم ہے،شرکا
کسٹمز ایکٹ 1969 میں پیش کردہ ترامیم کے حق میں 201 ، مخالف 57 ووٹ آئے،فنانس بل 2025 کی شق 4 میں وفاقی حکومت کی پیش کردہ ترامیم کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئیں،شق 4 میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ تمام ترامیم کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔
وزیر خزانہ نے کاربن لیوی کی جگہ موسمیاتی تبدیلی لیوی عائد کرنے کی ترمیم پیش کی ،فنانس بل کی شق 3 میں اپوزیشن کی جانب سے کل 6 ترامیم متعارف کی گئیں۔کاربن لیوی سے متعلق اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں۔
فنانس بل کی شق 2 میں عالیہ کامران اور بیرسٹر گوہر خان کی ترامیم پیش کی گئیں،بیرسٹر گوہر کی اسلام آباد میں پراپرٹی کی منتقلی پر ٹیکس ختم کرنے کی ترمیم مسترد کردی گئی۔
بانی سے ملاقات نہ کرائی گئی تو آئی ایم ایف پروگرام کے لیے تعاون نہیں کرینگے،علی امین گنڈا پور
فنانس بل 2025 کی شق 2 میں عالیہ کامران کی ترمیم بھی کثرت رائے سے مسترد کردی گئی۔ بعدازاں قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
