اسلام آباد: احتساب عدالت نمبر ایک اسلام آباد کے جج محمد بشیر کی جانب سے کورٹ رپورٹرز کو چائے کی دعوت دی گئی، ساتھ ہی انہوں نے یہ وضاحت بھی کر دی کہ رپورٹرز کو عدالت آنے سے نہیں روکا، ایسا سیکیورٹی والے کرتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کے داماد اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو پیر کے روز احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تو میڈیا کے نمائندوں کو عدالت میں داخلے سے روک دیا گیا تھا، پولیس سے رپورٹرز کی تلخ کلامی ہوئی اور سیکیورٹی اہلکاروں نے رپورٹرز کو دھکے بھی دیے۔
کیس کی سماعت کے بعد میڈیا رپورٹرز نے عدالت میں داخلے سے روکے جانے پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سے شکوہ کیا جس کے جواب میں انہوں نے کورٹ رپورٹرز کو چائے کی دعوت دے ڈالی۔
کورٹ رپورٹرز کا کہنا تھا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی پیشی پر میڈیا نمائندوں کو آنے سے روکا گیا، ان کا مؤقف تھا کہ ایسا سلوک تو کبھی اٹک قلعہ کی احتساب عدالت میں بھی نہیں ہوا تھا۔
میڈیا کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ عدالت میں داخلے پر پابندی سے کوریج میں مشکلات پیش آتی ہیں جس پر جج محمد بشیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی کو نہیں روکا، ایسا سیکیورٹی والے کرتے ہیں۔
انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ رپورٹرز نے دس ماہ تک جس طرح رپورٹنگ کی ہے، ادارے کی طرف سے انہیں سرٹیفکیٹ ملنا چاہیئے۔
