سالانہ 15 کروڑ منافعے والی کمپنیاں سپر ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گی جبکہ سالانہ 20 کروڑ تک منافع کمانے والی کمپنیوں کا سپر ٹیکس 0.5 ہو سکتا ہے۔
ایف بی آر کے ذرائع نے بتایا کہ 25 کروڑ منافع کمانے والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس 2 سے کم کرکے 1.5 فیصد ہونے اور سالانہ 30 کروڑ منافع کمانے والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس 3 فیصد اور 30 کروڑ سے زائد منافع کمانے والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس 4 فیصد برقرار رہنے کا امکان ہے۔
وفاقی بجٹ کل پیش کیا جائے گا ، حجم 17 ہزار ، 600 ارب روپے مقرر
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کیلئے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی نہیں ہو گی ، آئندہ بجٹ میں 850 سی سی گاڑی پر سیلز ٹیکس میں 5.5 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ 3500 سے زائد امپورٹڈ اشیاء اور خام مال پر ایڈیشل ریگولیٹری ڈیوٹی اور مقامی صنعت کیلئے امپورٹڈ خام مال پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کا امکان ہے۔
اقتصادی سروے کل پیش کیا جائیگا ، حکومت معاشی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام
ذرائع نے بتایا کہ امپورٹڈ سامان پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی میں 2 سے 5 فیصد تک کمی متوقع ہے جبکہ مقامی صنعت کیلئے امپورٹڈ خام مال پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم یا کم ہونے ، تعمیراتی صنعتوں کیلئے بھی خام مال ودہولڈنگ ٹیکس میں نرمی کا امکان ہے۔
