اسلام آباد ہائیکورٹ نے میونسپل کارپوریشن کو پراپرٹی ٹیکس بڑھانے سے روک دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات اور میونسپل کارپوریشن کے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، الیکشن کمیشن نے اسلام آباد بلدیاتی الیکشن سے متعلق رپورٹس عدالت میں جمع کرا دیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا ججز ٹرانسفر کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست واپس لینے کا فیصلہ
حکام نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد بلدیاتی انتخابات کیلئے 120 دن کی ٹائم لائن دی تھی، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ 120 دن کی ٹائم لائن دی گئی ہے پھر تو یہ الیکشن نہ ہی سمجھا جائے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ترمیم کتنے عرصے میں ہو جائے گی؟ 26 ویں آئینی ترمیم تو جلد ہو گئی تھی، یہ والی جلد ہو گی یا تاخیر سے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ تریمیم جلد ہو جائے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ:کوٹہ سے متعلق کیسز سننے والا لارجر بینچ تبدیل
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جب منتخب مقامی حکومت ہی نہیں تو پراپرٹی ٹیکس کیسے بڑھ سکتا ہے؟ جس پر عدالت نے کہا کہ
جب تک مقامی حکومت منتخب نہیں ہوتی پراپرٹی ٹیکس کی پرانی شرح لاگو رہے گی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد بلدیاتی الیکشن بل قائمہ کمیٹی میں زیر بحث ہے، کمیٹی سے بل پارلیمنٹ میں آئے گا اور اس پر بحث ہو گی، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
