اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جنگلات اراضی کیس میں زیرقبضہ اور واگزار کروائی گئی اراضی کی تفصیلات طلب کر لیں۔
سپریم کورٹ میں جنگلات اراضی کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے کی۔ عدالت نے تمام صوبوں اور وفاقی حکومت سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لیں۔ جبکہ زیر قبضہ اور واگزار کروائی گئی اراضی کی تفصیلات جمع کروانے کا بھی حکم دیا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ ایک مسئلہ اسلام آباد کی حدود کا بھی تھا اس کا کیا ہوا؟ ساری دنیا میں جنگلات بڑھائے جا رہے ہیں اور پاکستان میں کم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں رپورٹ نہیں حقیقت دیکھنا ہے۔ اور زیارت میں منفی 17 درجہ میں لوگ درخت نہیں کاٹیں تو کیا کریں۔ کیا حکومت سرد علاقوں میں کوئی متبادل انرجی سورس دی رہی ہے ؟
سرکاری وکیل نے کہا کہ اسلام آباد کی حدود کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ اور زیارت میں ایل پی جی فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے 2024ء میں سب سے زیادہ سولر پینلز درآمد کئے
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ پہاڑی علاقوں پر بسنے والے غریب لوگوں کو کیا سبسڈی دی جا رہی ہے؟ عوام کو بہتر سہولیات دینا حکومتوں کا کام ہے۔ 2018 سے آج تک مقدمے میں رپورٹس ہی آ رہی ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سندھ میں سندر اراضی سمندر کھا رہا ہے۔ اور درخت لگوانا سپریم کورٹ کا کام نہیں۔
سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
