قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف کے علاوہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر ، ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک اور ڈی جی ایم او نے شرکت کی۔
علی امین گنڈاپور کا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ
بلاول بھٹو، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، رانا ثنا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، احسن اقبال، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، فیصل واوڈا، خالد مقبول صدیقی، جام کمال اور وزیراعظم آزاد کشمیر ، چاروں وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور آئی جی پولیس بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
پاکستان تحریک انصاف نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ، کوئی رہنما اجلاس میں شریک نہیں ہوا ، ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی بشیر خان ایوان میں پہنچے اور کچھ دیر رکنے کے بعد واپس چلے گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی ملک کے لیے ناسور بن گئی ہے، ہم نے یہاں بیٹھ کر اس ناسور کا دیرپا اور پائیدار حل نکالنا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردی کی پاکستان کی سرزمین پر کوئی جگہ نہیں، شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کر سکتے، ہم نے ملک کو دہشتگردی سے مکمل پاک کرنے کا عزم کر رکھا ہے، ملک میں امن و امان و سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے اور دہشتگردی کو ہر صورت شکست دیں گے، اچھا ہوتا اگر اپوزیشن کے دوست بھی اہم اجلاس میں شرکت کرتے۔
وزیرِ اعظم نے دہشتگردی کے خلاف ریاستی کارروائیوں کو قابل ستائش اور قابل فخر قرار دیا اور ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو قوم کی طرف سے خراج عقیدت پیش کیا۔
