راولپنڈی: جی ایچ کیو حملہ کیس میں مزید 3 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے۔
جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجموعی طور پر 12 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ جس میں استغاثہ کے مزید 3 گواہوں کے بیانات آج ریکارڈ کیے گئے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست بریت پر وکیل صفائی فیصل ملک نے بحث مکمل کی۔ جبکہ پراسیکیوشن کل بانی پی ٹی آئی کی درخواست بریت پر اپنی بحث مکمل کرے گی۔
بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو ٹرائل میں بیٹھنے کی اجازت دینے کی درخواست بھی منظور کر لی گئی۔ تاہم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کو جی ایچ کیو ٹرائل میں بیٹھنے کی اجازت دینے پر پراسیکیوشن نے اعتراض کیا۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور کا متنازعہ کمیٹی کا نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ
پراسیکیوشن نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی ایک مقدمہ میں مجرم ہیں۔ اور انہیں عدالت سے سزا ہو چکی۔ اس لیے ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں جس میں مجرم کو کسی مقدمہ کے ٹرائل میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔
وکلا صفائی کی جانب سے 9 مئی سے متعلق 13 مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست دائر کی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تمام مقدمات میں ایک ہی سازش کا ذکر ہے۔ اس لیے ایک ہی فرد جرم عائد کی جائے۔
درخواست میں کہا گیا کہ 9 مئی سے متعلق تمام مقدمات یکجا کر کے ایک ہی ٹرائل کیا جائے۔
جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بدھ 29 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔
