اسلام آباد ( زاہد گشکوری) سرکاری اعداد وشمار سے انکشاف ہوا ہے کہ 2020 سے 2024 تک 5713 سائبر کرائم سے متعلق کیسز عدالتوں میں گئے ہیں۔
سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ سال میں سائبر کرائم کیسز میں صرف تین فیصد ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں ہوئیں۔
پچھلے پانچ سال میں سات ہزار سے زائد ملزمان کو سائبر کرائم میں گرفتار کیے گئے، مجموعی طور پر پانچ سال میں 222 کیسز میں ملزمان کوعدالتوں سے سزائیں ملیں۔
فیک نیوز پھیلانے پر 5 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا ، سائبر کرائم ترمیمی بل کا مسودہ تیار
دستاویزات کے مطابق پانچ سال میں 73 ہزار 825 پر انکوائریاں درج کی گئیں ،2024 میں سزا کا تناست صرف دو فیصد رہا، پچھلے سال 1044 کیسز میں سے صرف 24 کیسزمیں سزائیں ہوئیں۔
2022 میں سزا کا تناست صرف تین فیصد رہا، 2022 میں 1469 کیسز میں سے صرف 48 کیسزمیں سزائیں ہوئیں، 2021 میں سزا کا تناست صرف تین فیصد ، 2023 میں چھ فیصد رہا، 2023 میں 1375 کیسز میں سے صرف 92 کیسز میں سزائیں ہوئیں۔
ایف آئی اے سائبر کرائم نے چھ ماہ میں دس ہزار انکوائریوں میں نو سو ملزمان کو پکڑا
2021 میں 1224 کیسز میں سے صرف 38 کیسزمیں سزائیں ہوئیں، 2020 میں سزا کا تناست صرف تین فیصد رہا، 2020 میں 601 کیسز میں سے صرف 20 کیسز میں سزائیں۔
