اسرائیلی مظالم کا سلسلہ نہ رک سکا ، بمباری کے نتیجے میں مزید درجنوں فلسطینی شہید ہو گئے، شہداء کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی۔غزہ میں تیسری بار انٹرنیٹ اور ذرائع مواصلات بند ہو چکے ہیں۔ پانی اور خوراک کی قلت کے باعث فلسطینی بچے بلک رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے ایٹمی آبدوز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کر دی ہے۔
اسرائیل نے ایک بار پھر اسپتالوں اور گھروں پر بم اور میزائل برسائے ، اسرائیلی جنگی جہازوں نےانڈونیشین اسپتال پر حملہ کیا۔ الشفا اسپتال پر حملہ کر کے سولر پینل بھی تباہ کر دیئے گئے، اسپتال کے قریب کثیرالمنزلہ عمارت پر بھی بمباری کی گئی۔
اسرائیلی وزیراعظم کا بھتیجا یائیر نیتن یاہُو غزہ میں حماس کے ہاتھوں ہلاک
نصر اسپتال پر حملے میں 8 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ،نصر میڈیکل کمپلیکس میں 80 سے 100 مریض زیرعلاج ہیں ، اس کے علاوہ صہیونی فورسز نے مغربی کنارے میں 152 فلسطینی شہید کردیئے۔
اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ میں حماس کی ایک کمانڈ پوسٹ پر قبضہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جہاں عمارتوں کے کھنڈرات کے درمیان ٹینک چل رہے تھے۔
اسرائیل کی فورسز نے ایک ماہ سے جاری فوجی کارروائی کے بعد غزہ کو دو حصوں شمالی اور جنوبی علاقوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اسرائیلی فورسز نے گزشتہ روز غزہ شہر کا محاصرہ کر لیا اور محصور مقام کے شمالی حصے کو باقی علاقے سے کاٹ دیا ۔
مسلسل محاصرہ ، غزہ کی 23 لاکھ آبادی کو قحط کا سامنا ، بچے بلکنے لگے
ادھر ا مریکی سینٹرل کمانڈ نے ’ایکس‘ پر پوسٹ میں طیارہ بردار بحری جہازوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی منتقلی کا اعلان کیا ہے۔ دفاعی ماہرین امریکی بحریہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ، خصوصاً امریکی سینٹرل کمانڈ کے علاقے میں جوہری آبدوز کی تعیناتی کے اعلان کوغیرمعمولی قرار دے رہے ہیں۔
