لاہور میں تین روزہ پیس جرنلزم ورکشاپ ہوئی جہاں شرکاء نے پاکستانی صحافت میں امن، توازن اور ہم آہنگی کے موضوعات پر گفتگو کی۔
تفصیلات کے مطابق ورکشاپ میں سوشل میڈیا کے دور میں بدلتے عالمی رجحانات اور مین سٹریم پاکستانی صحافیوں کو درپیش مسائل پر بھی سیر حاصل بحث ہوئی۔
ایف سی کالج لاہور میں منعقد ہونے والی تین روزہ پیس جرنلزم ورکشاپ کا افتتاح کالج کے شعبہ ہیومینیٹیز کے ڈین ڈاکٹر الطاف اللہ خان نے کیا۔
ماہرین نے سوشل میڈیا کے دور میں پاکستانی صحافت خصوصا رپورٹنگ کے بدلتے رجحانات پر روشنی ڈالی۔
بیورو چیف ہم نیوز لاہور شیراز حسنات نے جرنلزم کی بدلتی جہتوں میں جرنلزم کے بزنس ماڈل پر سیر حاصل گفتگو کی۔
قومی انگریزی جریدے سے تعلق رکھنے والے سینئر صحآفی خالد خٹک نے صحافتی اخلاقیات اور اقدار پر بات کی اور تحقیق کو خبر کی نشر و اشاعت سے قبل بنیادی جزو قرار دیا۔
ورکشاپ سے ایف سی کالج کے شعبہ ماس کمیونیکیشن کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر فراست جبیں،ڈاکٹر عدیل عامر، ڈاکٹر انعم مزمل، ڈاکٹر سلیم، ڈاکتر عائشہ اشفاق، ڈاکٹر سویرا شامی کے علاوہ چئیرپرسن ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ماس کمیونیکیشن لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر سمیرا بتول اور اسسٹنٹ پروفیسر ماس کمیونیکیشن سرگودھا یونیورسٹی نعمان یاسر، اجمل جامی ، سید ثاقب نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں عالمی صحافت کو درپیش چیلنجز، مس انفارمیشن سے نمٹنے کے ذرائع اور پاکستان میں جرنلزم کے مستقبل پرگفتگو کی۔
