بلڈنگ میٹریل کی قیمتیں کنٹرول نہ ہونے کے وجہ سے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سیمنٹ،بجری،ریت،اینٹ کی قیمتوں میں اضافے کے بعدعام آدمی کا گھر بنانے کا خواب ادھورا ہو کر رہ گیا ہے، حکومت کی جانب سے بلڈنگ میٹریل کی قیمتیں کنٹرول نہ ہونے سے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں ہیں۔
انجکشن لگنے سے 17افراد کی بینائی متاثر ہوئی ہے، نگران وزیرصحت پنجاب
مہنگائی میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے سیمنٹ کی بوری 1200روپے،سریا 270روپے فی کلو،اینٹ فی ہزار 15000روپے،بجری 125فی فٹ ریت کا ٹرالا 18000روپےکا ہو چکا ہے۔
بلڈنگ میٹریل کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر لوگوں نے اپنے تعمیراتی کام رکوا دئیے ہیں جس سے مزدور طبقے کا روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
مزدور نے اپنی دیہاڑی میں بھی اضافہ کردیا ہے اسی طرح راج گیر،مستری بھی منہ مانگی اجرت طلب کررہے ہیں، فیصل آباد اور گردونواح میں سیمنٹ،بجری،ریت،اینٹ کی قیمتیںڈیلر منہ مانگی وصول کررہے ہیں۔
بخار کی دوا پیڈولل سسپشن کا ایک بیچ غیر معیاری قرار
ڈیلرزنے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بہانہ بناکر مقامی سیمنٹ 1200 روپے فی بوری ریٹ مقرر کردیا ہے۔
سیمنٹ کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ سے جہاں تعمیراتی کام بند ہو ئے ہیں وہاں مزدوروں کی ایک بہت بڑی تعداد بے روزگاری کا شکار ہوکر رہ گئی ہے،رائے ونڈ شہر میں بلڈنگ میٹریل ڈیلرز مافیا کا روپ دھا ر چکے ہیں۔
ہرچوتھا پاکستانی نوجوان ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے، رپورٹ میں انکشاف
ذرائع کے مطابق مقامی بلڈنگ میٹریل ڈیلرز نے رواں ماہ سیمنٹ کی بلیک مارکیٹنگ میں لاکھوں روپے کی دیہاڑیاں لگائی ہیں پرانے سٹاک رکھنے والے منہ مانگے داموں فروخت کر رہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی غلفت کے باعث بلیک مارکیٹنگ اور گراں فروشی عروج پر ہے۔
