اسلام اباد(زاہد گشکوری،ہیڈہم انویسٹی گیشن ٹیم) 32 ہزارسرکاری افسران کوسالانہ 12 ارب روپے کی مفت بجلی دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ہم انویسٹگیشن ٹیم کو موصول سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سرکاری خزانے سے سرکاری حاضرسروس اور ریٹائرڈ ملازمین کوماہانہ 2 ارب روپے کی مفت بجلی دی جارہی ہے، اسکے علاوہ 39 ارب روپے کی ماہانہ بجلی چوری ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
واپڈا کے 17 ہزار افسران سالانہ ساڑھے 5 ارب کی مفت بجلی استعمال کرتے ہیں, رپورٹ میں ہوشربا انکشافات
اعدادوشمار کے مطابق 2 لاکھ 20 ہزار سرکاری اورریٹائرڈ ملازمین کوسالانہ 24 ارب روپے کی مفت بجلی دی جارہی ہے۔
سرکاری اعدادوشمارسے مزید انکشاف ہوتا ہے کہ دس تقسیم کار کمپنیوں کے ایک لاکھ 81 ہزار ملازمین سالانہ 15 ارب کی فری بجلی استعمال کرتے ہیں،ملک میں مجموعی طورپر32 ہزارافسران کو 12 ارب روپے کی مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔
ایوان صدر کے 3 سو11 ملازمین کوسالانہ 8 کروڑ کے بجلی کے یوٹیلٹی، بجلی بلوں کی مد میں فنڈز ملتے ہیں، ایوان وزیراعظم کے 4 سو 45 ملازمین کے 14 کروڑ کے یوٹیلٹی، بجلی بلوں کی مد میں ملتے ہیں، 32 سوچھوٹی اور اعلی عدالتوں کے ججوں اور عملے کو35 کروڑ روپے یوٹیلٹی اوربجلی بلوں کی مد میں رقم سالانہ دیے جانے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
400 یونٹ تک کے بجلی بل اقساط میں وصول کرنے کا فیصلہ
سرکاری اعدادوشمارسے پتہ چلتا ہے کہ ان تمام ملازمین کوبجلی کے ماہانہ ساڑھے تین کروڑ یونٹ فری میں دیے جاتے ہیں، سکیل 22 اور21 کے افسران کو 1300 یونٹ جبکہ 19 سکیل کے افسران کو 880 اور 20 سکیل کے افسران کو 1110 ماہانہ یونٹ بجلی مفت دی جا رہی ہے۔
اعدادوشمارسے پتہ چلتا ہے کہ ایک تا درجہ چہارم کے ملازمین کو ماہانہ 100 یونٹ بجلی مفت دی جاتی ہے۔
صدر مملکت، وزیراعظم، چیرمین سینٹ، چیرمین نیب، اڈیٹرجنرل پاکستان اور ائینی عہدوں پربراجمان تمام شخصیات کو لامحدود بجلی کے خرچ کی اجازت ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ایئنی عہدوں پرپراجمان تمام شخصیات کی بل اور یوٹیلٹی اخراجات متعلقہ ڈیپارٹمنٹ اور ڈویژن سے 20 کروڑ سالانہ جاتے ہیں۔
ہم انویسٹی گیشن ٹیم کو ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ عدالت عظمی کے جج ماہانہ 2000 یونٹ جبکہ ہائیکورٹ کے جج 1300یونٹ مفت استعمال کرنے کے حقدارہیں، ڈسکوز سمیت واپڈا ملازمین کو سالانہ 391 ملین یونٹ بجلی مفت استعمال کرنے کی اجازت ہے۔
عدالت میں لیسکو کیخلاف ایک ہفتے کے دوران 400 سے زائد کیسز دائر
سرکاری اعدادوشمارکے مطابق وزارت توانائی کے ماتحت 18 کمپنیوں کے پانچ سال سے سربراہ ہی نہیں ہیں جو ملک میں 470 ارب روپے کی سالانہ بجلی چوری کو روکنے کیلیے کوئی پالیسی یا حکمت عملی بنا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 800 ملازمین پچھلے سال اربوں روپے کی بجلی چوری کرتے ہوے پکڑے گئے تھے، دستاویزات کیمطابق دوسو سے زائد ملازمین کو نوکری سے فارغ کردیا گیا۔
