آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جرمن نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور پاکستان جیسپر وائیک نے ملاقات کی۔ دونوں نے ملاقات میں علاقائی سلامتی سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف اور جرمن نمائندہ خصوصی نے افغان صورتحال بالخصوص انسانی امداد میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی اور علاقائی امور میں جرمنی کے اہم کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستان، جرمنی کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ دنیا غیر مستحکم افغانستان کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کے لیے عالمی کاوشیں ناگزیر ہیں۔ افغان عوام کی معاشی ترقی کے لیے مربوط عالمی نقطہ نظر ضروری ہے۔ افغانستان میں امن و مفاہمتی اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
افغان عوام کی معاشی ترقی کیلئے مربوط عالمی تعاون درکار ہے، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے اقدامات کی اہمیت پربھی زور دیا۔ جرمنی کےنمائندہ خصوصی نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردارکوسراہا۔ جسپروک نے پاکستانی کی بارڈر مینجمنٹ کے لیے خصوصی کاوشوں، علاقائی استحکام میں کردار کی بھی تعریف کی۔
مسٹرجسپروک نے پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔
دوسری جانب آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف سے انڈونیشیا کے وزیرخارجہ کی بھی ملاقات ہوئی ہے جس میں باہمی دلچسپی کےاموراوردفاعی تعاون کےمعاملات پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان علاقائی، عالمی معاملات میں انڈونیشیاکے کردارکی قدرکرتا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے، افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کیلئے ہنگامی کاوشیں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و مفاہمتی اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
