آسٹریلیا میں اپنے والدین کے ساتھ سیر کرنے گئی جہاں بچی ‘کلیو’ آدھی رات کو لاپتہ ہو گئی جسے پولیس نے اغوا کا نام دیا تھا۔ کیونکہ بچی کی ماں کا کہنا تھا کہ وہ رات کو اکیلے کیمپ چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتی۔
اس کیس کو بین الاقوامی توجہ حاصل ہوئی اور 16 اکتوبر کو بچی کے لاپتہ ہونے کے بعد وسیع پیمانے پر اس کی تلاش شروع کر دی گئی تھی۔ ریاست کے دارالحکوت پرتھ میں 100 پولیس اہلکاروں کی ایک ٹاسک فورس بنائی گئی جنھوں نے زمین، فضا اور سمندر میں کلیو کی تلاش کا آغاز کیا۔
حکام کی جانب سے کلیو کے بارے میں معلومات دینے والے کے لیے 10 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔

کئی جگہ چھاپے مارنے اور فرانزک ٹیسٹ ہونے کے بعد پولیس نے آخرکار یہ پہیلی سلجھا لی، اور بچی کو صیح سلامات بازیاب کرا لیا۔
ڈپٹی کمشنر کول بلانک ایک گھر کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہاں بچی موجود تھی، جب اس کا نام پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ’میرا نام کلیو ہے’۔
پولیس نے اس گھر تک پہنچنے سے متعلق ساری تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔
جس گھر سے کلیو ملی وہ اس کے اپنے گھر سے صرف چھ منٹ کی مسافت پر ہے، پولیس نے ایک 36 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا جس سے پوچھ گچھ جاری ہے، تاہم ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کلیو کو میڈیکل سہولیات مہیا کرنے کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس کیس کو اس قدر کوریج ملی کہ باؤنٹی ہنٹرز نے اس علاقے کا رخ کیا جہاں کلیو لاپتہ ہوئی تھی۔ مغربی ممالک میں باؤنٹی ہنٹرز ان لوگوں کو کہتے ہیں جو انعام کی رقم کی خاطر لاپتہ افراد کا سراغ لگاتے ہیں۔
