عالمی وبا کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے مزید علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔
محکمہ صحت پنجاب اور ضلعی انتطامیہ کے مطابق کورونا کیسز میں اضافے کے سبب لاہور کے مزید 27 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ لگا دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت پنجاب کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن جوہر ٹاوَن، علامہ اقبال ٹاوَن اور گلشن راوی کے مختلف علاقوں میں لگایا گیا ہے۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق لاک ڈاؤن والے علاقوں میں پھل اور سبزی کی دکانیں صبح 9 سے شام 7 بجے تک کھلی رہیں گی جبکہ میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریز، اسپتال، کلینک اور بیکریاں 24 گھنٹے کھلی رہیں گی۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن 9 اپریل تک نافذ رہے گا۔
ہم نیوز کے مطابق کورونا وائرس کے بڑھتے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پنجاب حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن پر غور شروع کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: لیپ ٹاپ اسکیم میں کرپشن کا سراغ لگا رہے ہیں، فردوس عاشق اعوان
آج میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت کل سخت اقدامات اٹھانے جا رہی ہے۔ پنجاب بھرمیں لاک ڈاؤن ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کو سنجیدہ نہیں لیا۔ شہری پیار کی زبان نہیں سمجھ رہے ہیں، اس لیے سختی کرنا پڑے گی جس کا واحد حل لاک ڈاوَن لگانا ہے۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، صوبے میں مکمل مکمل لاک ڈاوَن ہی ایک واحد حل ہے۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں صرف ڈھائی ارب کی سبسڈی دی گئی جب کہ ن لیگ کے دور میں وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی، اپنے بھائی اور رشتہ داروں کی شوگر ملز کو سبسڈی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نےڈھائی ارب سبسڈی کی تحقیقات کرائیں،عثمان بزدار نے گنے کے کاشتکاروں کیلئے مروجہ نظام بنایا، کوئی مل مالک کاشتکار کا استحصال نہیں کر سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کہا تھا رینٹ اے کراؤڈ زیادہ دیر نہیں چلے گا، یہ ایک دوسرے کو دھوکا دے کر داؤ پیچ لگا رہے تھے، ہم سے استعفے لینے والے استعفوں کی گردان سے پیچھے ہٹ گئے۔
