کراچی: عدلیہ میں مبینہ بدعنوانی، نااہل ججوں کی تقرری اور وکلا سے ناروا سلوک کے خلاف سندھ بار کونسل نے آج ہفتہ کے روز عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
سندھ بار کونسل کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کا اعلان ضلعی عدلیہ میں ہونے والی بدعنوانی، نااہل ججز کی تعینانی اور وکلا کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
بار کونسل کا مؤقف ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے مخصوص لوگوں کو ملنے والے چیمبر آرڈر اور ریلیف برداشت نہیں کریں گے اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔
گزشتہ پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ بار کونسل کے نائب چیئرمین صلاح الدین گنڈاپور اور دیگر کا کہنا تھا کہ 21 اپریل کو ہونے والی نشست میں بہت سے اہم فیصلے کیے گئے۔
سندھ بار کونسل نے ضلعی عدلیہ میں کی جانے والی تعیناتیوں میں بار کونسل سے مشاورت نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ضلعی عدلیہ میں تعیناتیاں میرٹ پر نہیں کی جا رہی ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق سندھ کی عدالتوں نے رواں برس کا آغاز 93 ہزار 403 زیرالتوا مقدمات کے ساتھ کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں سندھ کے تمام 29 اضلاع کے اعدادوشمار شامل تھے۔
