کراچی: بارش کے بعد شہر قائد کے مختلف علاقوں میں جمع پانی لوگوں کے لیے سخت اذیت کا سبب بن گیا ہے جب کہ سیوریج کے پانی نے درپیش صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
کراچی: دو روز کی بارش نے شہر کا حلیہ تبدیل کر دیا
ہم نیوز کے مطابق حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ سرجانی ٹاؤن کے مکینوں نے انتہائی مجبوری کے عالم میں نقل مکانی شروع کردی ہے۔
سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں کئی کئی فٹ پانی تاحال کھڑا ہوا ہے اور لوگوں کے گھروں میں اتنا داخل ہو گیا ہے کہ مکینوں کے لیے رہنا نا ممکن ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بارش اور سیوریج کے پانی کے گھروں میں داخلے کی وجہ سے ان کے قیمتی سامان تقریباً تباہ ہو گئے ہیں اوروہ نہایت بے سرو سامانی کے عالم میں صرف اہل خانہ کے ہمراہ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
کراچی کو تقسیم کر کے پورے شہر کو تباہ کردیا گیا،، وسیم اختر
ہم نیوز کے مطابق سخی حسن قبرستان کے قریب بارش کے پانی کے باعث سڑک دھنس گئی ہے اور بارش کا پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے شادمان ٹاؤن سے متصل سڑک بھی شدید متاثرہوئی ہے۔

مقامی انتظامیہ نے سڑک کا ایک حصہ پتھروں کو لگا کر ٹریفک کے لیے بند کردیا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ شاہراہ نور جہاں، شادمان اور ناگن چورنگی جانے والی ٹریفک بری طرح متاثر ہے۔
ہم نیوز کے مطابق شاہراہ نورجہاں کے قریب نالہ اوور فلو ہونے کے باعث کچرا سڑک پر جمع ہوگیا ہے اور وہ ہر طرح کے ٹریفک سمیت پیدل آنے جانے والوں کے لیے بھی مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔
کراچی: بجلی، نکاسی آب کے مسائل حل نہ ہو سکے، صورتحال گھمبیر
سندھ رینجرز کی جانب سے بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ہم نیوز نے سندھ رینجرز کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ سندھ رینجرز متاثرہ خاندانوں کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔
کراچی کی سڑکوں سے چار گھنٹوں میں پانی ختم ہو گیا، وزیراعلیٰ سندھ
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق مخیر حضرات کے تعاون سے متاثرہ خاندانوں میں کھانے کی تقسیم بھی کی گئی ہے جب کہ بارش کے پانی میں پھنسے ہوئے افراد کی بھی مدد کی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بارش کے پہلے دن کچھ علاقوں کے دورے کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ صرف چار گھنٹوں میں کراچی کی سڑکوں سے پانی صاف ہو گیا ہے۔ انہوں نے صورتحال پر اطمینان کا بھی اظہار کیا تھا۔
کراچی: پانی جمع ہونے کی کچھ فوٹیجز پرانی ہیں، وزیر بلدیات
گزشتہ بارش کے دوران سندھ کے وزیر بلدیات ناصرحسین شاہ نے کہا تھا کہ پانی کی بعض فوٹیجز پرانی چلائی جارہی ہیں۔ انہوں نے بھی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
