اسلام آباد: دہشت گرد تنظیم داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی پانچ سال بعد پہلی مرتبہ اپنی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کے ذریعے منظر عام پر آگئے ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی ہلاکت کے حوالے سے موجود دعوؤں کی تردید کردی ہے لیکن جاری ویڈیو کی تصدیق کسی غیر جانبدار ذرائع سے نہیں ہوسکی ہے۔
خبررساں ادارے کے مطابق ویڈیو میں یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کہاں بنائی گئی ہے؟ لیکن ہونے والی بات چیت میں الباغوز کی طویل جنگ کے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔ یہ جنگ گزشتہ ماہ ختم ہوئی ہے۔
داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے سر کی قیمت تین ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق داعش کے سربراہ بات چیت کے دوران اس بات کا اظہار کررہے ہیں کہ باغوز کی جنگ ختم ہوچکی ہے لیکن داعش کا مغرب کے خلاف آپریشن طویل جنگ کا حصہ ہے اور داعش اپنے تمام اراکین کے قتل کا بدلہ لے گی۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/146500/” position =”right”]
دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم کے سربراہ ا س امر کا اظہار کررہے ہیں کہ اس جنگ کے بعد اب بھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔
جاری کردہ ویڈیو میں 47 سالہ ابو بکر البغدادی کو لمبی اور گھنی داڑھی میں دکھا گیا ہے۔ دوران بات چیت ان کا لہجہ نرم ہے اور وہ رک رک کر بات کررہے ہیں۔
ابوبکر البغدادی 2014 میں موصل میں آخری مرتبہ عوام کے سامنے آئے تھے۔ اس وقت انہوں نے شام اور عراق میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اگست 2018 میں بھی ان کی ایک آڈیو کلپ منظر عام پر آئی تھی۔
شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف) نے امریکہ کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے گذشتہ ماہ داعش کے آخری مضبوط مرکز الباغوز پر قبضہ کر لیا تھا۔
الباغوز سے سینکڑوں کی تعداد میں داعش کے جنگجو پکڑے گئے اور یا پھر انھوں نے از خود ہتھیار ڈال دیے تھے۔

منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں ابو بکر البغدادی فرشی نشست پر آلتی پالتی مارے بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں اور تین افراد سے محو گفتگو ہیں جن کے چہرے نقاب میں ہیں۔
ویڈیو میں جو شخص ابوبکر البغدادی بتایا گیا ہے وہ کل 18 منٹ کی گفتگو کرتا ہے۔ ویڈیو میں تحریر کردہ مواد کے مطابق یہ ویڈیو اپریل کے اوائل میں فلمائی گئی ہے۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/69880/” position =”left”]
داعش کے سربراہ کے حوالے سے گزشتہ برسوں میں متعدد مرتبہ مغربی اور امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ دعوے سامنے آتے رہے ہیں کہ وہ فضائی حملوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہوچکے ہیں۔
جس طرح منظر عام پر آنے والی ویڈیو کی کسی غیر جانبدار ذرائع سے اس کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے بالکل اسی طرح امریکی، مغربی اور روسی حکام کی جانب سے کیے جانے والے ماضی کے دعوؤں کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔
داعش کے سربراہ کے حوالے سے تین دن قبل بھی عراقی خفیہ ایجنسی کے افسر کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یہ پیغام آیا تھا کہ شام سے عراق میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ابوبکر البغدادی کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ افسر کا دعویٰ تھا کہ عراق میں داخل ہونے کی کسی قیمت پر اجازت نہیں دیں گے۔
شام میں ناکامی کے بعد دہشت گرد تنظیم داعش کے متعلق عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں کئی مرتبہ آئی ہیں کہ وہ افغانستان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس حوالے سے اس کی طالبان کے ساتھ متعدد جھڑپوں کی اطلاعات بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں۔
