اسلام آباد: سیاچن کے گیاری سیکٹر پر پیش آنے والے بدترین سانحے کو آج سات برس مکمل ہوگئے لیکن قدرتی آفت کے نیتجے میں شہید ہونے والوں کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔
سات اپریل 2012 کو سیاچن میں برف کا تودا گرنے سے 124 فوجی اور 11 شہری شہید ہوئے تھے۔ اس سانحے میں این ایل آئی سکس کا بٹالین کا ہیڈ کوارٹرز مکمل طور پر دب گیا تھا جبکہ وہاں موجود افراد میں سے کسی کو بھی زندہ نہیں نکالا جاسکا تھا۔
شہداء کی برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف مقامات پر تقریبات اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی کور کمانڈر کا سیاچن کا دورہ
واضح رہے بھارت نے 1984 میں سیاچن پر ناجائز تسلط قائم کر لیا تھا جس کے جواب میں پاکستان کو بھی اپنے فوجی اس علاقے میں تعینات کرنے پڑے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 35 برس سے جاری اس جنگ میں انسانوں کا مقابلہ انسانوں سے کم اور سخت موسم سے زیادہ ہوتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق سیاچن میں اب تک تین سے پانچ ہزار فوجی جانیں گنوا چکے ہیں جن میں سے 70 فیصد اموات کا سبب خطرناک راستے اورموسمی دشواریاں تھیں۔اس محاز کو دنیا کا اس لحاظ سے بھی منفرد محاذ کہاجاتا ہے کہ وہاں سالوں سے کوئی گولی نہیں چلی۔
