لاہور: پنجاب میں پبلک اکاونٹس کمیٹی چئیرمین شپ کے معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، پنجاب حکومت نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چئیرمین شپ کے حوالے سے لیگی فارمولا مسترد کردیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چئیرمین شپ نہ ملنے پر تمام کمیٹیوں سے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جس کے بعد صورتحال مزید مشکل ہونے کے خادشات ہیں۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/111099/” position =”left”]
اس حوالے سے ارکان اسمبلی مراد راس نے کہا کہ مختلف اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ دونوں جانب سے مختلف نام دیئے جس میں سے یک کا انتخاب ممکن ہو۔
اسی حوالے سے یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کی پیروی سب پر فرض نہیں ہم وہ فیصلہ کریں گے جو ہمیں بہتر لگے گا جبکہ جگنو محسن نے کہا کہ افہام و تفہیم کے ساتھ مسئلہ حل ہونا چاہیے۔ حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ پی اے سی کی چیئرمین شپ ن لیگ کو ملنی چاہیے
واضح رہے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تقرری کے معاملے پر ابھی تک حکومت اوراپوزیشن کے اختلاف برقرار ہیں جس کی وجہ سے قانون سازی کا عمل رکا ہوا ہے۔
