کراچی: سندھ اسمبلی کا اجلاس آج بھی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا اورسابق سہلییاں بھی آمنے سامنے آگئیں۔
اجلاس میں مسائل پر بات کرنے کے بجائے سندھ حکومت اور اپوزیشن کے رہنمائوں کے درمیان لفظی جنگ چلتی رہی اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر خوب لفظوں کے تیر برسائے گئے۔
سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہی ہوا تھا کہ متحدہ اور حزب اختلاف نے بھی اپنے اپنے مورچے سنبھال لیے۔
اجلاس میں ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب صوبائی وزیرثقافت سردارشاہ نے کہا کہ فریئرہال کے کمرشل استعمال نے اسے برباد کردیا ہے اور مئیر وسیم اختر پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے تو دس سے زائد تاریخی عمارات کو برباد کیا۔
جس پر متحدہ رہنما خواجہ اظہار نے کہا کہ اگر مئیر وسیم اختر پرالزام لگایا جائے گا تو وہ ان کے دفاع میں ضرور بولیں گے۔
اجلاس کے دوران نصرت سحر عباسی نے پیپلزپارٹی کی رکن ماروی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بولنے کا زیادہ شوق ہے تو اپوزیشن میں بیٹھ جائیں جس پرماروی نے جواب دیا کہ اگر آپ بولنا کم کر دے گی تو معاملات حل ہوجائیں۔
اس ساری تکرار کے بعد اجلاس کے آختتام پرایم کیو ایم کی کراچی میں سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دیئے جانے کی قرارداد کو متقفہ طور پر منظور کرلیا گیا جبکہ آئندہ اسمبلی کی کارروائی تاریخی عمارت میں کرانے کا اعلان کیا گیا۔
