قومی سلیکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ پلئینگ الیون میں ہمارا عمل دخل نہیں۔
قومی سلیکشن کمیٹی کے ممبران نے قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ورلڈکپ میں قومی ٹیم کی کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی پر بات کی۔
مصباح الحق، سرفراز احمد، اسد شفیق اور عاقب جاوید نے پریس کانفرنس کی، قومی سلیکٹر عاقب جاوید نے کہا کہ ورلڈکپ کے حوالے سے ٹیم سے بہت امیدیں وابستہ تھیں تاہم نتائج توقعات کے مطابق نہیں آئے۔
زمان خان انجری کا شکار ، پی ایس ایل 11 میں شرکت مشکوک
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو کم از کم سیمی فائنل تک ضرور پہنچنا چاہیے تھا لیکن کھلاڑی وہ کارکردگی نہیں دکھا سکے جو دکھانی چاہیے تھی۔
عاقب جاوید نے کہا کہ انگلینڈ سیریز کے دوران کوچ کے ساتھ ٹیم کے منصوبے پر بات ہوئی تھی اور اس وقت واضح کیا گیا تھا کہ 15 رکنی اسکواڈ میں بڑی تبدیلی کا کوئی منصوبہ نہیں۔ بعد ازاں بنگلہ دیش سیریز سے قبل 20 کھلاڑیوں کے نام دیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوچ کی واپسی کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
عاقب جاوید نے کہا کہ دنیا کے بیشتر کرکٹ بورڈز میں ایونٹس کے حساب سے ڈومیسٹک کرکٹ نہیں کھیلی جاتی اور کسی ایک ٹورنامنٹ کی کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑی کو فوری طور پر قومی ٹیم میں شامل نہیں کیا جاتا۔
عاقب جاوید نے مزید بتایا کہ بابر اعظم انجری کے باعث بنگلہ دیش اور ٹی ٹوئنٹی سیریز نہیں کھیل سکے جبکہ فخر زمان کے ان فٹ ہونے کے معاملے کی انکوائری کروائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلیکشن کمیٹی کا پلیئنگ الیون میں عمل دخل نہیں ہوتا اور کپتان و کوچ کو اپنی ٹیم منتخب کرنے کا حق ہونا چاہیے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ پلئینگ الیون میں ہمارا عمل دخل نہیں، ہم کوچ اور کپتان کو کیوں کہیں گے کہ بابر اعظم کو کھلائیں یا نہیں، اسکواڈ فائنل ہونے سے متعلق ہمارے عمل دخل کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
اس موقع پر سابق کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ یہ دیکھ رہی ہے کہ محمد رضوان کے متبادل کے طور پر کون سا کھلاڑی وکٹ کیپنگ کے ساتھ بیٹنگ بھی مؤثر انداز میں کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کے پاس تین سے چار وکٹ کیپرز پائپ لائن میں موجود ہیں اور آئندہ چند ماہ میں کھلاڑیوں کو بلا کر ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
سلمان علی آغا کا متنازع رن آؤٹ،بحث چھڑ گئی
سابق کپتان مصباح الحق نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کی کوشش ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں اور کوچ و کپتان کی مرضی کے مطابق بہترین ٹیم دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں لیکن اب توجہ مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی پر ہے۔
