سابق وزیراعظم عمران خان لانگ مارچ کےلئے کامونکی روانگی سے پہلے گزشتہ روز ان کنٹینر کے نیچے آکر شہید ہونے والی خاتون رپورٹر صدف نعیم کے اچھرہ میں گھر گئے۔
عمران خان نے صدف نعیم کے اہلخانہ کے ساتھ اس افسوسناک واقعے پر تعزیت کی اور مرحومہ کے بچوں کو پیار کیا، عمران خان کی آمد کے موقع پرعلاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
اس سے پہلے سپیکرپنجاب اسمبلی سبطین خان، اسد عمر۔ڈاکٹریاسمین راشد اورشفقت محمود بھی تعزیت کے لئے صدف نعیم کے گھرگئے۔ تحریک انصاف کے رہنمائوں نے افسوسناک واقعے پردکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی جانب سے مرحومہ کے بچوں کی کفالت کی جائے گی۔صدف ایک بہترین اورمحنتی رپورٹرتھیں۔ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔
رہنما تحریک انصاف اسد عمر نے ٹوئٹ کی کہ ابھی صدف نعیم کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کے لئے ملاقات ہوئی، اللہ مرحومہ کی مغفرت کرے اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔
اہل خانہ کا کہنا تھا کے وہ صرف اپنی پروفیشنل ذمہ داری نہیں بلکہ دل کے جذبہ سے اس لانگ مارچ کی کوریج کر رہی تھیں۔
ابھی صدف نعیم کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کے لئے ملاقات ہوئی. اللہ مرحومہ کی مغفرت کرے اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا کرے. اہل خانہ کا کہنا تھا کے وہ صرف اپنی پروفیشنل ذمہ داری نہیں بلکہ دل کے جذبہ سے اس لانگ مارچ کی کوریج کر رہی تھیں
— Asad Umar (@Asad_Umar) October 31, 2022
واضح رہے گزشتہ رات صحافی صدف نعیم لانگ مارچ میں حادثے کا شکار ہو کر اپنی جان کی بازی ہار گئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ حادثے میں صدف نعیم کی شہادت کا واقعہ انتہائی دلخراش ہے اور المناک واقعہ پر ہر دل دکھی ہے، انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ان کی فیملی کی مکمل دیکھ بھال کرے گی اور فیملی کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
