لندن: برطانیہ نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کو جینوم سیکوینسنگ یعنی وائرس کی قسم جاننے کے عمل میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی مدد کے باعث کورونا وائرس کی نئی اقسام کو جاننے، پہچاننے اور اسے ٹریک کرنے میں مدد ملے گی۔
کورونا کی چوتھی لہر آ سکتی ہے، عوام احتیاط کریں: وزیراعظم کی وارننگ
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق برطانیہ نے جینوم سیکوینسنگ کے عمل میں پاکستان، برازیل، ایتھوپیا، کینیا اور نائجیریا کو مدد فرام کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کورونا وائرس سے اب تک 40 لاکھ افراد دنیا بھر میں ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ طبی ماہرین کے مطابق ہر چند ہفتے بعد وائرس کی ساخت میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ تبدیلیاں انفلواینز ا یا ایچ آئی وی کے وائرس کے مقابلے میں آہستہ ہیں لیکن ویکسین میں رد و بدل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی قومی ادارہ صحت پبلک ہیلتھ انگلینڈ حکومت کے شراکت داروں کو نیو ویرینٹ اسسمنٹ پلیٹ فارم پروگرام کے تحت مدد فراہم کرے گا۔
کورونا کیسز میں اضافہ: این سی او سی کا تشویش کا اظہار
برطانیہ میں اس پروگرام کے ذریعے کورونا وائرس میں ہونے والی تبدیلیوں کو ٹریک کیا جاتا ہے۔
انفلواینزا وائرس کا ڈیٹا اکھٹا کرنے والے بین الاقوامی ادارے جی آئی ایس ایڈ میں سارس کوو ٹو کے جمع کرائے گئے سیکوینسز میں سے ایک تہائی ڈیٹا برطانیہ نے فراہم کیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب کا کہنا ہے کہ برطانیہ سائنس میں سپر پاور ہے اور یہ درست ہے کہ ہم دنیا بھر میں کووڈ 19 کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں۔
کورونا وائرس:پاکستان میں مزید24اموات،1ہزار 683 نئے کیسز رپورٹ
برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹر جینی ہیریس کا کہنا ہے کہ نئے سارس کوو ٹو کی اقسام ایک بڑا خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی وبا کے دوران یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی ملک تب تک محفوظ نہیں ہے جب تک کہ تمام ملک محفوظ نہ ہوجائیں۔
