لاہور: لاہور پولیس نے موٹروے پر خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد تحقیقات کا دائرہ بڑھاتے ہوئے جائے وقوعہ سے 5 کلومیٹر کے علاقے میں سرچ اینڈ سویپ آپریشن شروع کردیا ہے۔
ترجمان لاہور پولیس کے مطابق کرول گاؤں اور اطراف میں پولیس کی 20 ٹیمیں موجود ہیں۔ تین مقامات کی جیو فینسنگ مکمل کر لی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق پولیس قریبی گاؤں میں ملزمان کا سراغ لگانے میں مصروف ہے۔ پولیس نے علاقے کے ریکارڈ یافتہ ملزمان کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے کیس حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق متاثرہ خاتون اور حراست میں لیے گئے ملزمان کے سیمپلز فرانزک لیب بھجوا دئیے گئے ہیں۔ ملزمان کی ڈی این اے رپورٹ خاتون کی رپورٹ سے میچ کی جائے گی۔ ڈی این اے رپورٹ میچ ہونے کے بعد اصل ملزمان کی شناخت ممکن ہو سکے گی۔
مزید پڑھیں: موٹروے پر خاتون سے زیادتی کا واقعہ انتظامیہ کی نااہلی ہے، شہزاد اکبر
خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق دو افراد نے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق خاتون لاہور سے گوجرانوالا جارہی تھیں کہ گاڑی میں پیٹرول ختم ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ رک کر اپنے خاوند کا انتظار کر رہی تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمان خاتون سے ایک لاکھ روپے نقد، سونے کے زیورات اور اے ٹی ایم کارڈز بھی لے گئے ہیں۔
پنجاب میں یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے کہ جب نئے آئی جی پنجاب کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالے ہوئے محض چند ہی گھنٹے گزرے ہیں۔
اس سے قبل آئی جی پنجاب انعام غنی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہماری کوشش ہے جلد ملزمان تک پہنچ جائیں اور ملزمان تک پہنچنے کے لیے ثبوت بھی مل چکا ہے۔
