کراچی: کھڈا مارکیٹ لیاری میں مخدوش عمارت گرنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بارہ ہو گئی ہے، منہدم عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے افراد کی تلاش کا کام کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا۔
چھیپا ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ عمارت کے ملبے سے مزید تین لاشیں نکال لی گئی ہیں، لاشوں کی شناخت 20 سالہ شہزاد عمر اور 23 سالہ میمونہ کے نام سے ہوئی ہے۔
دوسری جانب آرمی انجینئرنگ کور کے افسران نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رینجرز کو بریفنگ دی جس میں بتایا کہ عمارت کا ملبہ اٹھانے کا کام کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا ہے۔
بریفنگ میں ڈی جی رینجرز کے ہمراہ رینجرز کے اعلیٰ افسران بھی موجود ہیں۔
قبل ازیں عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے شاہد نامی شخص کو زندہ نکال لیا گیا تھا جس کے بعد اسے فوری طور پر علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا اور جان کی بازی ہار گیا۔
امدادی سرگرمیوں میں مصروف ریسکیو اداروں کے مطابق ملبے سے ایک دو سالہ بچی کی نعش بھی برآمد ہوئی جسے اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ مخدوش عمارت کے زمیں بوس ہونے کا حادثہ دو روز قبل وقوع پذیرہوا تھا۔
کراچی: گلبہار میں عمارت کے ملبے سے ایک اور لاش برآمد، ہلاکتوں کی تعداد 27 ہوگئی
ہم نیوز کے مطابق پاک فوج، رینجرز اورامدادی اداروں نے ریسکیوآپریشن میں حصہ لہا جب کہ پولیس نے اطراف کی عمارات کو بھی حفظ ماتقدم کے طور پر خالی کرایا۔
پاک فوج کی انجینئرنگ کور کے جوانوں نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ سراغ رساں کتے بھی موجود رہے جو ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کی تلاش میں مدد دے رہے تھے۔
کراچی:کم رقبے پر تعمیر بلند عمارتوں کیخلاف آپریشن جاری
حادثے کی ابتدا میں امدادی اداروں کے رضاکار اہل محلہ کی مدد سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ علاقہ مکینوں کو خدشہ ہے کہ عمارت کے ملبے میں ابھی کئی افراد دبے ہوئے ہو سکتے ہیں۔
کھڈا مارکیٹ میں زمیں بوس ہونے والی مخدوش عمارت سے متصل عمارت بھی خطرناک قرار دی جا چکی ہے۔
علاقے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گرنے والی عمارت کے ساتھ ہی قریبی عمارت کی چھت کا بھی ایک ٹکڑا گرا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقع کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ہدایات جاری کی تھیں کہ سب سے پہلے متاثرین کی امداد کی جائے اور ان کی بحالی پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے اس ضمن میں رپورٹ بھی طلب کرلی تھی۔
کراچی: گلبہار میں زمیں بوس ہونے والی عمارت کے متاثرین کا احتجاج
ہم نیوز کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی مخدوش عمارت کی ٹیکنکل کمیٹی نے16 مارچ کو زمیں بوس ہونے والی رہائشی عمارت کا معائنہ کیا تھا۔
ایس بی سی اے کی جانب سے اس وقت کہا گیا تھا کہ پلاٹ نمبر 635 پر بنی ہوئی پانچ منزلہ عمارت انسانی زندگیوں کےلیے خطرناک ترین ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق 18 مارچ کو ایس بی سی اے نے عمارت کے یوٹیلٹی کنکشنز منقطع کرنے کے لیے ایس ایس جی اورکے الیکٹرک کو مراسلے لکھے تھے جن میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شیریں بائی عمارت انسانی زندگیوں کےلیےخطرہ ہے لہذا اس عمارت کے کنکشنز فوری طور پر منقطع کیے جائیں۔
کراچی: رضویہ کی عمارت میں دراڑ پڑ گئی،مکین باہر نکل آئے
ہم نیوز کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق 18 مارچ کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے 15 روزمیں شریں بائی کے مکینوں کوعمارت خالی کرنےکے لیے نوٹسز بھی چسپاں کیے تھے۔
