اسلام آباد: پاک روس انٹر گورنمنٹ کمیشن برائے تجارت (آئی جی س) کے چھٹے اجلاس میں متعدد شعبوں خصوصاً توانائی، تجارت، ٹرانسپورٹ صنعت و پیداوار، ریلوے ، زراعت اور سائنس و ٹیکنالوجی میں باہمی معاشی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کی زیر صدارت آئی جی سی اجلاس میں روسی وفد نے شرکت کی۔ روسی وزیر برائے صنعت و تجارت ڈینس وی مانٹوف نے روسی پارٹی کے چیئرمین کے طور پر روسی وفد کی قیادت کی۔
پاکستان کی طرف سے سیکرٹری برائے معاشی امور ڈویژن اور دفتر خارجہ، وزارت برائے تجارت، اور پاور ڈویژن کے سینئر نمائندوں نےحصہ لیا۔
اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزارت برائے معاشی امور نے فورم کو پاکستان کی حالیہ معاشی پیشرفتوں اور نتائج سے آگاہ کیا۔ حماد اظہر نے پاکستانی معیشت کے بہتر اشارے خصوصا کرنٹ اکاؤنٹ کے توازن پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے اجلاس کو آئی ایم ایف پروگرام کے کامیاب نفاذ، پاکستانی معیشت کے روشن مستقبل کے امکانات اور دونوں اطراف کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات سے آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک روس مشترکہ فوجی مشقوں سے تعلقات مضبوط ہوں گے، آرمی چیف
اعلامیہ کے مطابق روسی سرمایہ کاری سے پاکستان اسٹیل ملوں کی بحالی کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ روس نے اسٹیل ملز کے قیام میں تعاون کرکے پاکستان کی صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی ہے۔ روسی وفد نے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
اجلاس میں چاول اور آلو سمیت پاکستان کی دیگر اشیاء کی برآمدات پر عارضی پابندی ختم کرنے پر بھی بات کی گئی۔ روسی فریق کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان روس کے ساتھ باہمی اور معاشی تعلقات کو بڑے احترام کے ساتھ رکھے ہوئے ہے۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان ترقی، تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع کی فراہمی کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھتے ہوئے اعلی سطح پر اس طرح کی بات چیت کو جاری رکھنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔
دریں اثناء روس کے وزیرتجارت کی وفد کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر، وزیرپلاننگ اسد عمر موجود
مشیر تجارت اور مشیر خزانہ سمیت اعلی حکام بھی میں موجود تھے۔
