وادی سندھ کا شمار دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے علاوہ ہزاروں ایسے مقامات اور جگہیں ہیں جہاں قدیم تہذیبوں اور پرانی آبادیوں کے آثار ملتے ہیں۔
ان تاریخی مقامات میں لودھراں کا’’ ٹبہ تلواڑہ‘‘ بھی شامل ہے۔ ٹبہ تلواڑہ، لودھراں شہر سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر حویلی نصیر خان روڈ پر ایک بڑے سے ٹیلے کی صورت میں آج بھی موجود ہےلیکن بدقسمتی سے یہ قدیم آثار حکومتی تحویل کی بجائے لودھراں کے رہائشی ایک شخص کے قبضہ میں ہیں۔
محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق یہ ٹبہ تقسیم ہند سے پہلے سے الاٹ شدہ ہے۔ اس الاٹ منٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مذکورہ شخص نے نہ صرف اس تاریخی مقام کی زمین فروخت کرنا شروع کر دی بلکہ زمین کو قابل کاشت بنانے کے لئے ان آثار قدیمہ کی مٹی بھی بلڈوزروں، ٹریکٹروں اور ٹرالیوں کے ذریعے اٹھوانا شروع کر دی۔
اس پر لوک سیوا نامی مقامی تنظیم کے صدرنے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آثار قدیمہ کو خطوط لکھے جس میں مٹی اٹھوانے کو روکنے اور ان آثار کو حکومتی تحویل میں لینے کی استدعا کی گئی۔ جس کے نتیجہ میں عارضی طور پر مٹی اٹھوانے کا کام روک دیا گیا ہے۔

گزشتہ دنوں ایس ڈی او آثار قدیمہ ملتان نے بھی محکمے کی ہدایات پر’’ ٹبہ تلواڑہ ‘‘کا معائنہ کیا اور اس تاریخی مقام کی تصاویر بنا کر محکمہ آثار قدیمہ کو اپنی سفارشات بھیج دی ہیں۔
انہوں نے محکمہ آثار قدیمہ کو لکھا ہے کہ فوری طور پر ’’ٹبہ تلواڑہ‘‘ کا سائنسی بنیادوں پر سروے کر کے اس کی تاریخی حیثیت کا پتہ چلایا جائے اور اس تاریخی مقام کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے یہاں پر چوکیدار تعینات کئے جائیں۔
32 ایکڑ پر محیط ’’ٹبہ تلواڑہ ‘‘ کا رقبہ اب صرف12 ایکڑ پر مشتمل رہ گیا ہے۔ زیادہ تر زمین کو قابل کاشت بنا کر اس پر فصلیں کاشت کردی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے:حیدرآباد دکن:تاریخی عمارت ’چار مینار‘ کا ایک حصہ ٹوٹ کرگرگیا
’’ٹبہ تلواڑہ ‘‘یا ’’قلعہ تلواڑہ ‘‘ایک بہت بلند و بالا قلعہ تھا۔ شہاب الدین دہلوی ’’ٹبہ تلواڑہ‘‘ کےبارے میں اپنی کتاب ’’تاریخ اوچ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اس قلعہ کی دیواریں اتنی بلند تھیں کہ پرندوں کی پرواز ممکن نہ تھی اور اس کے اردگرد بہت بڑا دریا گھیرا ڈالے ہوئے تھا۔
تقی شمیم مورخ لودھراں نے’’ٹبہ تلواڑہ ‘‘کو اشوک اعظم (232-273) قبل مسیح کے ایک بیٹے تیوارا سے منسوب کیا ہے۔ انگریز دور کے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر ملتان رائے حکم چند’’تواریخ ملتان ‘‘میں لکھتے ہیں کہ یہ قلعہ آٹھ سو برس پہلے آباد ہوا۔
