لاہور: پلوامہ واقعہ کے بعد انڈین میڈیا پر بھارتی کسانوں کی طرف سے پاکستان کو ٹماٹر بھیجنے سے انکار کی رپورٹ نشر ہوئی دوسری طرف پاکستانی شہریوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں بھی لال ٹماٹر کی کمی نہیں۔
پلوامہ حملے کے بعد بھارتی میڈیا کا کچھ حصہ واقعی بدحواس ہو گیاہے۔ پاکستان کو ٹماٹر بھیجنے کی رپورٹ ایسے دینے لگا کہ جیسے پاکستانی عوام بھارتی ٹماٹر کے بغیر بھوکی مر جائے گی۔
ہم نیوز کے رپورٹر عمیر رانا نے دکھا دیا کہ پاکستان بھی لال ٹماٹر کی پیداوار میں خود کفیل ہے اور پاکستان میں بھی لال ٹماٹر بڑی تعداد میں کاشت ہوتے ہیں جب کہ ان کی پیدوار صرف پنجاب ہی میں نہیں بلکہ ملک بھر میں ہو رہی ہے۔
پاکستانی خواتین کا کہنا ہے اگر بھارت لال ٹماٹر بھیجنا بند کر دے گا تو ہم ٹماٹر کی جگہ دہی استعمال کر لیں گے لیکن بھارت سے ٹماٹر نہیں مانگیں گے۔ بھارتی ٹماٹر کھائے بغیر ہم مر نہیں جائیں گے۔
پاکستانی خواتین نے بھارت کی گیڈر بھبکیوں پر کہا کہ وہ ٹماٹر کے بغیر بھی جی لیں گی لیکن اپنا ایمان نہیں بیچیں گی۔ ہم بھارتی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔
ایک بھارتی چینل پر چلائی گئی نیوز رپورٹ میں بھارتی کسانوں کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان ہمارے ہی ٹماٹر کھا کر ہمارے جوانوں کو مارتا ہے اس لیے اب ہم پاکستان کو ٹماٹر نہیں بھیجیں گے۔
بھارتی میڈیا نے کہا کہ بھارت سے اب لال ٹماٹر پاکستان نہیں جائے گا، پاکستان ہمارے ٹماٹر کھا کر ہمارے ہی دشمن پیدا نہیں کر سکے گا۔
واضح رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد سے بھارتی کی جانب سے مسلسل پاکستان پر الزامات لگائے کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارتی میڈیا کی بدحواسی، دہشتگرد کی جعلی تصویر جاری کردی
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے پاکستان کے ساتھ اپنی ہر طرح کی درآمد اور برآمد کا سلسلہ بند کر دیا ہے جب کہ پاکستان کو ایڈوانس میں دیے گئے پیسوں کی بھی واپسی کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔
