ڈیرہ بابا نانک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مشاورت کی گئی تھی اور اس کا معاہدہ 24 اکتوبر 2019 کو ہوا
سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے ذریعے لاہور پہنچے ہیں جہاں پر ان کیلیے کھانے اور میڈیکل سہولیات کا اہتمام کیا گیا ہے۔
یہ اپنی نوعیت کی پہلی یونیورسٹی ہوگی جس میں پنجابی اور خالصہ زبانوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ وزیرداخلہ
سکھ یاتریوں کی بس بیڈ روم، واش روم، باورچی خانہ، ڈائنگ ٹیبل جیسی سہولتوں سے مکمل طور پر آراستہ ہے۔
بیساکھی میلے میں شرکت کے لیے تین ہزار بھارتی یاتریوں کو ویزے جاری کیے جائیں گے
کرتار پوردربار کے چاروں اطراف کو 400 فٹ کشادہ کیا جائے گا
لاہور: پاکستان یاترا پر آئے بھارتی سکھ یاتری وطن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ طارق وزیر…






