پشاور ہائیکورٹ نے خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔
پشاور ہائی کورٹ نے خواجہ سراؤں سے متعلق پولیس تشدد اور ضلع بدری کے الزامات کے سلسلے میں سیکرٹری داخلہ / قانون سمیت متعلقہ حکام کو طلب کر لیا ہے ۔
خواجہ سراؤں نے عدالت میں دائر درخواست دائر میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیس اور انتظامیہ خواجہ سراؤں کیساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔
پولیس رویئے سے تنگ 24 خواجہ سراؤں نے اجتماعی طور پر زہر پی لیا، ویڈیو وائرل
درخواست میں کہا گیا تھا کہ ہمیں بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے، اور بعض کو ضلع بدر کرکے زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
درخواست کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے کہا کہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے آئی جی پولیس، چیف سیکرٹری سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود، تحفظ اور استحصال سے بچاؤ کی رپورٹ عدالت میں جمع کریں۔
پاکستان میں خواجہ سراؤں کی تعداد میں کمی
عدالت نے کہا کہ تمام شہریوں چاہے ان کی جنسی شناخت یا سماجی مقام کوئی بھی ہو ، کو بنیادی حقوق اور تحفظ فراہم کیا جائے اور خواجہ سراؤں کی حالتِ زندگی، سلامتی اور عزتِ نفس کو یقینی بنایا جائے۔
