لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ، نیب ذرائع
رانا ثنا اللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔
ہمارے سامنے رانا ثنا اللہ سے کوئی منشیات برآمدگی نہیں ہوئی، پراسیکیوشن گواہ
عمران خان اور شہزاد اکبر کو شریف فیملی اور قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
پاکستان تحریک انصاف کے لوگ عمران خان کو لیڈر شپ کے عہدے سے ہٹائیں۔
تیسری قوت نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ مداخلت نہیں کریں گے۔
آپ نواز شریف سے ملنا چاہتے ہیں تو وہ بھی انکار نہیں کریں گے۔
صدر کے پاس ایڈوائس پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی اختیار نہیں۔
ایک سے 2 دن میں آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ ہو جائے گا۔
دو ٹوک کہا تھا کہ سینئر صحافی ارشد شریف کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔
آمدورفت کے راستے کھلے رکھنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، عدالت عالیہ صورتحال کا نوٹس لے۔
رانا ثنا اللہ نے فائرنگ کے واقعے کی وفاقی سیکیورٹی ایجنسیز سے بھی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
کوئی سیاستدان کبھی یہ نہیں کہتا کہ ہم مذاکرات نہیں کریں گے۔
عمران خان لانگ نہیں بلکہ فتنہ مارچ کر رہے ہیں۔
ایف آئی اے نے درست مقدمہ درج کیا اور ضابطہ مکمل ہونے پر انہیں گرفتار کیا گیا۔









