سرگودھا میں بھی عطائی ڈاکٹر نے ڈیڑھ سالہ معصوم بچے سمیر حیدر کی جان لے لی۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر عدنان کو ایم بی بی ایس کو طلب تک معلوم نہیں ہے اور وہ کلینک چلا رہا تھا۔
سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں دانت میں درد کے علاج کے لیے آنے والی 19 سالہ لڑکی عصمت اس وقت انتقال کرگئی جب اسے درد میں آرام کے لیے انجیکشن لگایا گیا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دماغ میں آکسیجن نہ پہنچنے کے باعث بچی کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہو رہے ہیں۔


