3 بڑی سیاسی جماعتیں عوام کو ڈلیور کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں، شاہد خاقان عباسی
نیب اور اینٹی کرپشن سیاسی جوڑ توڑ کیلئے استعمال ہورہے ہیں، سابق وزیراعظم
کسی کی سپورٹ سے ملک پہلے چلا نہ اب چلے گا، شاہد خاقان عباسی
35 سال سے ن لیگ سے منسلک رہا، نواز شریف میرے قائد تھے
جس سیاست کیساتھ ن لیگ کھڑی ہے اس سے اتفاق نہیں کرتا، شاہد خاقان عباسی
فیض آباد دھرنے میں کہا ہے کہ بطور وزیراعظم کوئی کوتاہی تھی تو تیار ہوں۔
شاہد خاقان عباسی کا انکار ، ن لیگ نے مری سے نیا چہرہ میدان میں اتار دیا
این اے 51 سے نو جوان سیاستدان راجہ اسامہ اشفاق کو ٹکٹ دیا گیا
شاہد خاقان عباسی انتخابی سیاست سے باہر ہوگئے
سابق وزیر اعظم کے بیٹے نے بھی کاغذات نامزدگی فارم جمع نہیں کروائے
نیب نے نوازشریف کیخلاف جعلی کیسز بنائے، شاہدخاقان عباسی
سابق چیئرمین پی ٹی آئی سیاستدانوں کو جیل میں ڈالنے کاکریڈٹ لیتے رہے،آج خود جیل میں ہیں، سابق وزیراعظم
نواز شریف نے رابطہ کیا اور نہ ہی ضرورت ہے، شاہد خاقان عباسی
اس نظام کے ساتھ ملک نہیں چلے گا،سابق وزیراعظم
جو پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں اس کی بہتر وضاحت وہی دے سکتے ہیں، خرم دستگیر
صدر کا فیصلہ 8فروری کو عوام کے فیصلے کے بعد ہوگا، رہنما ن لیگ
مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما شاہد خاقان عباسی کا پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ
کسی اور جماعت میں نہیں جاؤں گا، الیکشن کے بعد نئی جماعت بنا سکتا ہوں، لیگی رہنما
نواز شریف کو انصاف نہیں ملا، ساڑھے 5 سال انہیں کون واپس کریگا؟ شاہد خاقان عباسی
نیب رہا تو ملک نہیں چلے گا، ملک چلائیں یا نیب چلالیں
شاہد خاقان عباسی کا بڑی سیاسی جماعتوں سے متعلق اہم انکشاف
اگر آپ کو انصاف ملتا ہے تو کیا وہ ڈیل ہو جاتی ہے؟ رہنما مسلم لیگ ن
نواز شریف کے بلانے پر جاؤں گا، انتخاب نہیں لڑوں گا، شاہد خاقان عباسی
آج کل جو سیاست ہو رہی ہے میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔
جماعت کی سوچ سے اتفاق نہیں کرتا، نواز شریف بتائیں ان کی کیا سوچ ہے؟ شاہد خاقان
عمران خان کو عدالتوں سے زبردستی نااہل کروایا گیا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے
پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے، سیاست میں اس کا مقام ہے، شاہد خاقان عباسی
موجودہ حالات میں الیکشن کا قائل نہیں ہوں، یہ الیکشن کسی کو کچھ نہیں دے گا
پارٹی کا سینئر لیڈر نہیں، نواز شریف کے استقبال کیلئے اسی لیے نہیں گیا، شاہد خاقان
اعلیٰ عہدوں پر رہنے والوں کو انصاف نہ ملے تو عام آدمی کو کیسے ملے گا؟
چیئرمین پی ٹی آئی سمیت کسی سے کوئی شکوہ نہیں ، شاہد خاقان عباسی
جب پارٹی بنے گی توسب کے سامنے بنے گی، سابق وزیر اعظم
فیض آباد دھرنے پر عدالت نے بلایا تو ساری باتیں بتادوں گا، شاہد خاقان عباسی
پولیس چاہتی تو مظاہرین کو ہٹا سکتی تھی
نگران حکومت اچھی نگرانی کرے گی تو 100 نمبر دیں گے، شاہد خاقان عباسی
فروری کے آخر اور مارچ کے شروع میں انتخابات ہوسکتے ہیں
موجودہ اسمبلی تاریخ کی بدترین اسمبلی تھی، شاہد خاقان عباسی
بدترین اسمبلی کا حصہ بننے پر عوام سے معافی مانگتا ہوں۔
نگران وزیراعظم کیلئے پارٹی جو فیصلہ کرے گی وہ مجھے قبول ہو گا، شاہد خاقان عباسی
اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 دن بعد الیکشن ہو نگے، سابق وزیراعظم

