درخواست گزار پہلے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوں، عدالت براہِ راست ریلیف فراہم نہیں کرسکتی، جسٹس ارشد علی کے ریمارکس
درخواست میں وفاقی حکومت اور امیگریشن محکمے کو فریق بنایا گیا، ای سی ایل سے نام نکالنے اور سفارتی پاسپورٹ جاری کرنے کی استدعا
پشاور ہائی کورٹ کا مقدمات میں گرفتاری سے روکنے کا حکم، ججز نے اسلام آباد ہائی کورٹ جانے کی ہدایت بھی کر دی
درخواست قابلِ سماعت نہیں،پشاور ہائیکورٹ ،متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
اثاثوں سے متعلق 120 دن کے اندر جواب دینا لازمی ہوتا ہے، ہم نے جواب دیا ہے، وکیل اپوزیشن لیڈر
ہمیں مجبور نہ کریں کہ باقی منصوبے بند کرکے کہیں کہ صرف انڈس ہائی وے پر توجہ دیں، ایس ایم عتیق شاہ
درخواست میں مخلتف سرکاری ادروں کو فریق بنایا گیا ہے
حلف برداری کی تقریب میں ججوں کے علاوہ وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی
پشاور ہائیکورٹ کا تینوں کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم