اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1985 کے تجاوزات سے متعلق ایک مقدمے میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف کو نوٹس جاری کردیا ہے۔
منگل کے روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاکپتن دربار کی زمین پر دکانیں تعمیر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
1985 میں وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف کی جانب سے وکیل خواجہ حارث، دکان مالکان کی جانب سے وکیل افتخار گیلانی، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور دیگر فریقین عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 29 سال قبل محکمہ اوقاف کی اراضی پر دکانیں تعمیر کرنے کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی اور نوازشریف نے بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب 1986 میں نوٹیفکیشن کیوں اور کس قانون کے تحت واپس لیا؟
وکیل دفاع افتخار گیلانی نے معزز عدالت کو بتایا کہ جس اتھارٹی کے تحت مجھ سے جائیداد واپس لی گئی اسی اتھارٹی کے تحت جائیداد واپس بھی دی گئی اور 29 سال بعد سپریم کورٹ کہتا ہے کہ نوٹیفکیشن غیر آئینی تھا۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے اور وہ یہ کہہ سکتا ہے، سپریم کورٹ پاکستان کے آئین کا محافظ ہے۔
افتخار گیلانی نے کہا کہ پاکستان کی عوام پاکستان کے آئین کی محافظ ہے اور سپریم کورٹ بھی آئین و قانون کے تابع ہے۔
سپریم کورٹ کے سربراہ نے وکیل دفاع کو لہجہ درست اور آواز دھیمی کرنے کی تنبیہہ کی، جس کے جواب میں افتخار گیلانی نے جواب دیا کہ میری آواز اور لہجہ ویسا ہی ہوگا جیسا آپ کا۔
وکیل دفاع افتخار گیلانی نے استدعا کی کہ میرے مقدمات اپنے بینچ پر مقرر نہ کریں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں اپنے بینچ پر آپ کے مقدمات لگاؤں گا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ 1985 میں سیکریٹری اوقاف کون تھا انہیں بھی نوٹس جاری کر رہے ہیں جس پر عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ وہ وفات پا چکے ہے۔
عدالت نے پاکپتن دربار کی زمین پر تجاوزات کے کیس میں آٹھ ہزار افراد کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔
جیسا لہجہ آپ کا ہوگا ویسا میرا ہو گا
سپریم کورٹ میں پیشی کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل دفاع افتخار گیلانی نے بتایا کہ پارلیمنٹ کو قانون بنانے کا اختیار ہے، عوام قانون کی محافظ ہے اور عدلیہ صرف قانون کو فالو کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کا مجھے آواز نیچے کرنے کا کہنا جائز نہیں تھا، ہم کورٹ آفیسر ہیں ہمارے ساتھ ایسا رویہ نہیں ہونا چاہئیے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ جیسا لہجہ آپ کا ہوگا ویسا میرا ہو گا۔
