اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اُن کی نااہلی کو برقرار رکھا ہے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس میں نظرثانی کی اپیل کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست بھی مسترد کر دی۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم بینچ نے جہانگیر ترین اور حنیف عباسی کی نظر ثاںی کی درخواستوں کی سماعت جمعرات کے روز کی۔
سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی نظر ثانی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نظر ثانی درخواست میں کوئی خاص گراؤنڈ نہیں اٹھایا گیا۔ اسی وجہ سے درخواست نظر ثانی اپیل مسترد کی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم جہانگیر ترین کی ٹرسٹ ڈیڈ کو تسلیم نہیں کرتے، آپ نے ظاہری شناخت چھپا کر تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔ آپ خود ہی اپنے دلائل میں واضح نہیں ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سارے کا سارا فراڈ کیا گیا ہے، ایک آفس ہولڈر نے دھوکہ دہی کر کے پیسہ باہر بھجوا دیا۔
کارروائی کی ابتدا میں عدالت نے حنیف عباسی کی فل کورٹ بنچ بنانے کے درخواست کی سماعت کی۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ کئی فیصلوں میں لارجر اور فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کا حکم دے چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شکیل اعوان بنام شیخ رشید کیس میں سپریم کورٹ ایسے معاملہ پر لارجر بنچ بنانے کی تجویز دے چکی ہے۔
اپنے دلائل میں اکرم شیخ نے جب کہا کہ مجھے عمومی القدر پر جانا ہے، تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ چاہتے ہیں کہ فل کورٹ بنایا جائے؟ اکرم شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا یہ وہ مقدمہ نہیں جس میں سختی سے قانون کا اطلاق کیا جائے، پاناما نظرثانی فیصلہ ہوا، ڈان اخبار جن کے بانی قائداعظم تھے انہوں نے فل کورٹ بنانے کی درخواست کی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اخباروں پر فیصلے نہیں کرتے۔
اکرم شیخ نے کہا کہ شیخ رشید احمد کیس میں ایک جج صاحب نے تمام فیصلوں کا حوالہ دیا، آٹھ ماہ مقدمہ سنا گیا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ کیا آپ اقلیتی فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں؟ اکرم شیخ نے جواب دیا کہ اقلیتی فیصلہ نہیں بلکہ اس میں چیف جسٹس کو سفارش کی گئی۔ شیخ رشید احمد کیس میں سات سوالات اٹھائے گئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر آرٹیکل 184 کے تحت کسی شخص کے خلاف مقدمات ہیں تو آپ کی درخواست خارج ہو جائے گی۔ انہوں نے اکرم شیخ سے کہا کہ ہمیں وہ قانونی وجہ بتائیں کہ کیوں لارجر بنچ تشکیل دیں؟ اکرم شیخ نے جواب دیا کہ قانون تمام افراد کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے بھی ایک فیصلے میں یہی لکھا ہے۔
عدالت نے اکرم شیخ کے دلائل سننے کے بعد فل کورٹ بنچ بنانے کی درخواست مسترد کر دی۔
